
کراچی: انمول عرف پنکی کیس کی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں محکمہ انسدادِ دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے 2 اہلکاروں کو حراست میں لے لیا گیا۔
حراست میں لیے گئے اہلکاروں میں اے ایس آئی کفیل اور سپاہی علی قریشی شامل ہیں، جو سی ٹی ڈی سول لائنز میں تعینات تھے۔ سی ٹی ڈی ذرائع کے مطابق ڈیجیٹل فارنزک اور موبائل ڈیٹا کے جائزے کے دوران دونوں اہلکاروں کے مبینہ طور پر انمول عرف پنکی سے رابطوں کے شواہد سامنے آئے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں اہلکاروں پر الزام ہے کہ وہ تفتیش سے متعلق حساس معلومات مبینہ طور پر ملزمہ کے نیٹ ورک تک پہنچاتے رہے۔ اہلکاروں کو نامعلوم مقام پر منتقل کرکے مزید تفتیش کی جارہی ہے۔
سی ٹی ڈی حکام کے مطابق کیس میں ملوث کسی بھی اہلکار کے ساتھ رعایت نہیں برتی جائے گی اور تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کردیا گیا ہے۔
اس سے قبل کیس کے سلسلے میں ضلع کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) علی حسن کو بھی معطل کیا جاچکا ہے۔ معطلی کا نوٹیفکیشن وزیر داخلہ سندھ کی ہدایت پر جاری کیا گیا تھا۔
آئی جی سندھ جاوید اوڈھو نے اس حوالے سے کہا تھا کہ کیس میں کئی اہم نام سامنے آسکتے ہیں اور منشیات کے کاروبار سے جڑے مزید افراد بھی تحقیقات کی زد میں آسکتے ہیں۔
واضح رہے کہ انمول عرف پنکی کو 12 مئی کو کراچی کے علاقے گارڈن میں پولیس اور ایک وفاقی ادارے کی مشترکہ کارروائی کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔ پولیس کے مطابق ملزمہ مختلف مقدمات میں مطلوب رہی ہے جبکہ تحقیقات میں کراچی اور لاہور تک پھیلے مبینہ منشیات نیٹ ورک کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں۔
سرکاری وکلا کے مطابق ملزمہ کا جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر اسے دوبارہ عدالت میں پیش کیا جائے گا۔









