
کراچی میں ہائی پروفائل انمول عرف پنکی کیس میں نئی پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے اپنے ہی دو اہلکاروں کو حراست میں لے لیا۔ زیر حراست اہلکاروں میں اے ایس آئی کفیل اور سپاہی علی قریشی شامل ہیں، جو سی ٹی ڈی سول لائنز میں تعینات تھے۔
سی ٹی ڈی ذرائع کے مطابق ڈیجیٹل فارنزک اور موبائل ڈیٹا کی جانچ کے دوران انکشاف ہوا کہ دونوں اہلکار ملزمہ پنکی سے رابطے میں تھے اور مبینہ طور پر تفتیش سے متعلق معلومات فراہم کر رہے تھے۔
ادھر ملزمہ کو عدالت میں پیشی کے دوران مبینہ وی آئی پی پروٹوکول دینے کے معاملے پر ڈی آئی جی ویسٹ کی سربراہی میں قائم تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی رپورٹ مکمل کر لی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ ملزمہ کو پیشی کے دوران غیر معمولی سہولیات فراہم کی گئیں، جن میں موبائل فون تک رسائی بھی شامل تھی۔
تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق ساؤتھ زون کے بعض افسران اور گارڈن تھانے کے اہلکاروں کے درمیان مسلسل رابطے موجود تھے جبکہ معاملے سے متعلق سی سی ٹی وی ریکارڈ بھی غائب پایا گیا۔
کمیٹی نے ضلعی ایس ایس پی، ایس ایچ او گارڈن اور ایس آئی او گارڈن کو غفلت کا ذمہ دار قرار دیا ہے جبکہ 17 افسران اور اہلکاروں کے بیانات بھی ریکارڈ کیے گئے ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ گرفتاری کے بعد ملزمہ کا مجرمانہ ریکارڈ قواعد کے مطابق درج نہیں کیا گیا اور آپریشن پولیس نے انوسٹی گیشن ٹیم کو مکمل معلومات فراہم نہیں کیں۔
تحقیقاتی کمیٹی نے ایس ایچ او گارڈن حنیف سیال کے کردار کو مشکوک قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف محکمانہ اور قانونی کارروائی کی سفارش کی ہے۔
دوسری جانب پہلے سے معطل دو خواتین پولیس اہلکاروں کو کلیئر قرار دے دیا گیا۔ کمیٹی کے مطابق انہیں ہائی پروفائل کیس سے متعلق مناسب تربیت اور معلومات فراہم نہیں کی گئی تھیں۔
وزیراعلیٰ سندھ کے احکامات پر ایس ایس پی سٹی علی حسن کو معطل کر دیا گیا ہے جبکہ آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے بھی معاملے میں پولیس کی کوتاہی کا اعتراف کیا ہے۔
آئی جی سندھ کے مطابق ملزمہ کو مختلف خطرات لاحق ہو سکتے ہیں کیونکہ کیس میں کئی اہم نام سامنے آ رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کیس کے مختلف پہلوؤں پر تحقیقات جاری ہیں جبکہ منی لانڈرنگ سے متعلق معاملات اب ایف آئی اے دیکھے گی۔
منگل کے روز ملزمہ پنکی کو سخت سیکیورٹی میں دوبارہ عدالت میں پیش کیا گیا جہاں عدالت نے درخشاں اور گزری تھانوں کے دو مقدمات میں مزید تین روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے ملزمہ کو پولیس کےحوالے کردیا۔









