
پاکستان کی معروف سینئر نیوز کاسٹر عشرت فاطمہ نے ایک حالیہ انٹرویو میں اپنی ذاتی زندگی کے کچھ انتہائی تکلیف دہ اور جذباتی پہلوؤں پر گفتگو کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اپنی زندگی میں انہیں کئی ایسے مراحل سے گزرنا پڑا جو آج بھی ان کے دل پر گہرا اثر رکھتے ہیں۔
انٹرویو کے دوران انہوں نے اعتراف کیا کہ بچپن میں وہ اپنی رنگت کو لے کر اکثر پریشان رہتی تھیں اور اس پر اللہ سے شکوہ بھی کرتی تھیں، کیونکہ وہ اس صورتحال کو قبول نہیں کر پا رہی تھیں۔ تاہم وقت کے ساتھ ان کی سوچ میں تبدیلی آئی اور اب وہ اپنی حالت پر شکر ادا کرتی ہیں، اگرچہ ان کے مطابق فخر جیسے جذبات ان کے لیے بہت بڑی بات ہے۔
عشرت فاطمہ نے اپنے شوہر کی حمایت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حوصلہ افزائی نے انہیں زندگی میں آگے بڑھنے میں مدد دی۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ وہ عام طور پر باہر جانے سے پہلے سادہ میک اپ کرتی ہیں تاکہ خود کو بہتر انداز میں پیش کر سکیں۔
گفتگو کے دوران وہ ایک انتہائی دکھ بھرا واقعہ بھی یاد کرتی نظر آئیں جب انہوں نے اپنی پہلی بیٹی کے انتقال کا ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بیٹی کی پیدائش کے وقت ان کا پہلا سوال بھی اس کی رنگت سے متعلق تھا، اور وہ لمحہ آج بھی انہیں بے حد افسردہ کرتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ وہ آج بھی اپنی مرحومہ بیٹی کی قبر پر جا کر معافی مانگتی ہیں اور خود کو اس بات کا ذمہ دار سمجھتی ہیں کہ شاید وہ اچھی ماں ثابت نہیں ہو سکیں۔
عشرت فاطمہ نے معاشرتی رویوں پر بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے معاشرے میں رنگ، شکل و صورت اور دوسروں کے جذبات کا خیال نہ رکھنے جیسے مسائل عام ہیں، جو لوگوں کو ذہنی اور جذباتی طور پر متاثر کرتے ہیں۔ ان کے مطابق ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم دوسروں کے احساسات کا احترام کریں اور منفی رویوں سے گریز کریں۔









