ایران سے مذاکرات میں تعطل، امریکا اور اسرائیل کی ممکنہ کارروائیوں کی تیاریاں تیز

مختلف بین الاقوامی اور ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کے ساتھ جاری سفارتی مذاکرات میں تعطل کے بعد امریکا اور اسرائیل خطے میں ممکنہ عسکری آپشنز پر غور کر رہے ہیں۔ رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ دونوں ممالک ایران کے خلاف ممکنہ اقدامات کے لیے مشترکہ تیاریوں میں مصروف ہیں، تاہم اس حوالے سے کوئی باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق زیرِ غور آپشنز میں ایران کے فوجی مراکز اور اہم تنصیبات پر فضائی حملے، خلیج فارس میں واقع اہم تیل برآمدی مرکز خارگ آئی لینڈ کے گرد کارروائیاں، اور حساس جوہری مواد تک رسائی کے لیے خصوصی دستوں کی تعیناتی جیسے امکانات شامل بتائے جا رہے ہیں۔
دوسری جانب ایک سینئر اسرائیلی عہدیدار نے مقامی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے اور امریکا کی جانب سے ایران سے مذاکرات کے حوالے سے حتمی فیصلے کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
تاحال امریکا، اسرائیل یا ایران کی جانب سے ان رپورٹس پر مکمل سرکاری مؤقف سامنے نہیں آیا، جبکہ خطے کی صورتحال پر عالمی سطح پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔








