برمودا جزیرے کی اونچائی کا نیا سائنسی راز سامنے آگیا

0
8
برمودا جزیرے کی اونچائی کا نیا سائنسی راز سامنے آگیا

بحرِ اوقیانوس میں واقع برمودا جزیرہ اپنی پراسرار شہرت اور طویل عرصے سے زیرِ بحث برمودا ٹرائینگل کے باعث دنیا بھر میں توجہ کا مرکز رہا ہے۔ اب ماہرینِ ارضیات نے اس جزیرے کی ایک دیرینہ سائنسی الجھن کے بارے میں نیا مؤقف پیش کیا ہے کہ یہ جزیرہ کروڑوں سال تک اپنی غیر معمولی بلندی پر کیسے قائم رہا، حالانکہ یہاں آتش فشانی سرگرمیاں تقریباً 30 ملین سال سے غیر فعال ہیں۔

کارنیگی انسٹی ٹیوشن اور ییل یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے محققین کے مطابق برمودا کے نیچے زمین کی تہوں میں ایک غیر معمولی ساخت موجود ہے جو اسے دیگر آتش فشانی جزیروں سے منفرد بناتی ہے۔ یہ تحقیق معروف سائنسی جریدے میں شائع کی گئی ہے۔

عام طور پر ہوائی جیسے آتش فشانی جزیرے زمین کے اندر سے اٹھنے والے گرم لاوے کے ستونوں کے باعث بنتے اور وقت کے ساتھ آہستہ آہستہ بیٹھ جاتے ہیں، لیکن برمودا کے ساتھ ایسا نہیں ہوا۔ یہ جزیرہ اب بھی نسبتاً بلند سطح پر قائم ہے۔

محققین نے اس راز کو سمجھنے کے لیے زلزلوں کی لہروں کا تجزیہ کیا، جو زمین کے اندر مختلف تہوں سے گزرتے وقت اپنی رفتار بدلتی ہیں۔ ان مشاہدات کی مدد سے جزیرے کے نیچے تقریباً 30 کلومیٹر گہرائی تک اندرونی نقشہ تیار کیا گیا۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ برمودا کے بالکل نیچے چٹانوں کی ایک موٹی مگر نسبتاً ہلکی تہہ موجود ہے۔ یہی تہہ ایک طرح سے “تیرتی ہوئی بنیاد” کا کردار ادا کرتی ہے، جو اوپر موجود جزیرے کو سہارا دے رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ ہلکی چٹانی ساخت ممکنہ طور پر اس دور میں بنی جب زمین پر قدیم براعظم ایک ساتھ جڑے ہوئے تھے۔ بعد میں ہونے والی ارضیاتی تبدیلیوں اور آتش فشانی سرگرمیوں نے اس مواد کو مخصوص شکل دی۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ تہہ برمودا کو اس طرح سہارا دیتی ہے جیسے پانی میں لکڑی کا تختہ تیرتا رہتا ہے۔ اگر یہ ساخت موجود نہ ہوتی تو برمودا ممکنہ طور پر وقت کے ساتھ کٹاؤ کا شکار ہو کر سمندر کی سطح سے نیچے ایک زیرِ آب پہاڑ کی صورت اختیار کر لیتا۔

محققین کا یہ بھی کہنا ہے کہ برمودا کی یہ منفرد ساخت دیگر سمندری جزیروں کے مقابلے میں غیر معمولی ہے، اور مستقبل میں دنیا کے مختلف حصوں میں اسی نوعیت کی ساختوں پر مزید تحقیق کی جائے گی تاکہ زمین کے اندر چھپے اس جیسے مزید رازوں کو سمجھا جا سکے۔

Leave a reply