
کراچی میں منشیات اسمگلنگ کیس کی نامزد ملزمہ انمول عرف پنکی کو جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں عدالت نے مزید ریمانڈ کی استدعا مسترد کرتے ہوئے اسے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دے دیا۔
سماعت کے دوران عدالت کے اندر اس وقت صورتحال کشیدہ ہوگئی جب ملزمہ نے پولیس پر مبینہ طور پر دباؤ ڈالنے، زبردستی بیانات لینے اور جھوٹے مقدمات قائم کرنے کے الزامات عائد کیے۔ ملزمہ نے میڈیا کے سامنے بھی اپنے خلاف کارروائی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اسے مختلف مقامات سے حراست میں لیا گیا اور دوران تفتیش دباؤ کا سامنا رہا۔
پولیس حکام نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ملزمہ ایک منظم نیٹ ورک سے وابستہ ہے اور تفتیش کے دوران اس کے موبائل ڈیٹا اور مالی لین دین سے اہم شواہد سامنے آئے ہیں۔ تفتیشی افسر کے مطابق ملزمہ سے منشیات برآمد ہوئی ہیں اور اس کیس میں مزید گرفتاریاں بھی عمل میں لائی گئی ہیں۔
سماعت کے دوران عدالت نے فریقین کو تحمل سے بات کرنے اور قانونی طریقہ کار کے مطابق دلائل دینے کی ہدایت کی جبکہ دیگر گرفتار ملزمان کو بھی عدالت میں پیش کیا گیا۔ پولیس نے مؤقف اختیار کیا کہ نیٹ ورک کے مزید ارکان کی گرفتاری کے لیے تفتیش جاری ہے۔
پولیس کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں مبینہ طور پر منشیات کی خرید و فروخت اور مالی لین دین سے متعلق شواہد حاصل ہوئے ہیں جبکہ نیٹ ورک کے مختلف شہروں تک پھیلاؤ کا بھی خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
دوسری جانب ملزمہ نے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس کے خلاف سیاسی یا ذاتی بنیادوں پر مقدمات قائم کیے گئے ہیں۔
ادھر حکومتی اور اپوزیشن حلقوں کی جانب سے بھی کیس پر ردعمل سامنے آیا ہے۔ اپوزیشن نے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ معاملے کی مکمل جانچ کی جا رہی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
پولیس نے واضح کیا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد تمام حقائق عدالت کے سامنے پیش کیے جائیں گے۔









