امریکا کی فلسطینی ٹیکس فنڈز غزہ منصوبے میں استعمال کرنے کی تجویز

0
4
امریکا کی فلسطینی ٹیکس فنڈز غزہ منصوبے میں استعمال کرنے کی تجویز

امریکا میں ایک نئی تجویز پر غور کیا جا رہا ہے جس کے تحت اسرائیل کی جانب سے روکی گئی فلسطینی اتھارٹی کی ٹیکس رقم کو غزہ کی جنگ کے بعد بحالی کے منصوبوں میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی حکام نے ابھی تک اسرائیل کو اس حوالے سے کوئی باضابطہ درخواست نہیں دی، تاہم اس منصوبے پر مختلف سطحوں پر بات چیت جاری ہے۔

ذرائع کے مطابق تجویز یہ ہے کہ فلسطینی ٹیکس فنڈز کا کچھ حصہ غزہ کے لیے ایک عبوری انتظامیہ کو فراہم کیا جائے، جبکہ باقی رقم فلسطینی اتھارٹی کو اصلاحات کی شرائط کے ساتھ دی جائے۔

فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے تقریباً 5 ارب ڈالر کے ٹیکس فنڈز روک رکھے ہیں۔ یہ رقم فلسطینی اتھارٹی کے سرکاری اخراجات، ملازمین کی تنخواہوں اور عوامی خدمات کے لیے اہم سمجھی جاتی ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر فلسطینیوں کی مشاورت کے بغیر ان کے فنڈز کو کسی بیرونی منصوبے پر خرچ کیا گیا تو مغربی کنارے میں مالی بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔

یاد رہے کہ فلسطینی اتھارٹی اس وقت صرف مغربی کنارے کے محدود علاقوں میں انتظامی اختیارات رکھتی ہے، جبکہ غزہ پر 2007 سے حماس کا کنٹرول ہے۔

ادھر غزہ کی جنگ کے بعد بحالی کے منصوبے حماس کی جانب سے ہتھیار نہ ڈالنے اور جاری اسرائیلی کارروائیوں کے باعث تاخیر کا شکار ہیں۔

امریکی حکام کے مطابق غزہ کی تعمیر نو کے لیے مختلف شعبوں میں منصوبہ بندی جاری ہے اور بین الاقوامی عطیہ دہندگان سے بھی رابطے کیے جا رہے ہیں تاکہ حالات سازگار ہونے پر بحالی کا عمل شروع کیا جا سکے۔

Leave a reply