غزہ سٹی میں اسرائیلی حملہ، حماس رہنما عزالدین الحداد کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

غزہ سٹی میں اسرائیلی حملے کے دوران حماس کے سینئر عسکری رہنما عزالدین الحداد کو نشانہ بنانے کا دعویٰ سامنے آیا ہے۔ اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو اور وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ کارروائی حماس کے ایک اہم فوجی رہنما کے خلاف کی گئی۔
غزہ کی ایمرجنسی سروسز کے مطابق اسرائیلی حملوں میں کم از کم 7 افراد جاں بحق اور 50 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ زخمیوں کو علاج کے لیے الشفا اسپتال منتقل کیا گیا۔ تاہم فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوسکا کہ عزالدین الحداد ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں یا نہیں۔
اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ عزالدین الحداد پر 7 اکتوبر 2023 کے حملوں کی منصوبہ بندی میں کردار ادا کرنے اور یرغمالیوں کو رکھنے کی ذمہ داری عائد کی جاتی رہی ہے۔ ایک اسرائیلی سیکیورٹی اہلکار نے دعویٰ کیا کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق کارروائی کامیاب رہی، تاہم حماس کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
غزہ کی ایمرجنسی سروسز کے مطابق حملہ غزہ سٹی کے علاقے الرمل میں ایک رہائشی عمارت پر کیا گیا، جس کے بعد قریبی سڑک پر موجود ایک گاڑی کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
الشفا اسپتال کے ڈائریکٹر محمد ابو سلمیہ کے مطابق جاں بحق افراد میں 3 خواتین اور ایک بچہ بھی شامل ہیں۔ فلسطینی ہلالِ احمر کے طبی عملے نے امدادی کارروائیوں کے دوران متعدد زخمیوں کو السرایا فیلڈ اسپتال منتقل کیا۔
یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب غزہ میں جنگ بندی نافذ ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے، تاہم اسرائیلی کارروائیاں بدستور جاری ہیں۔ اسرائیل کا مؤقف ہے کہ یہ حملے حماس اور ممکنہ سیکیورٹی خطرات کے خلاف کیے جا رہے ہیں۔
فلسطینی وزارتِ صحت کے مطابق جنگ بندی کے نفاذ کے بعد سے اب تک غزہ میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں 850 سے زائد فلسطینی جاں بحق ہوچکے ہیں۔









