امریکا کے متضاد بیانات سے مذاکراتی عمل متاثر، اعتماد کا بحران بڑھ گیا

0
12
امریکا کے متضاد بیانات سے مذاکراتی عمل متاثر، اعتماد کا بحران بڑھ گیا

ایرانی وزیر خارجہ نے ایک پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ ایران نے کسی جنگ کا آغاز نہیں کیا بلکہ موجودہ صورتحال میں وہ صرف دفاعی پوزیشن میں ہے۔ ان کے مطابق آبنائے ہرمز کی کشیدگی کی ذمہ داری ایران پر عائد نہیں ہوتی، اور یہ اہم سمندری راستہ صرف مخالف ممالک کے لیے محدود کیا گیا ہے، جبکہ ایران اسے کھلا رکھنے کا خواہش مند ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے مختلف اور متضاد بیانات نے سفارتی عمل کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، جس کے باعث باہمی اعتماد میں شدید کمی آئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان پہلے بھی 2015 میں ایک اہم معاہدہ طے پایا تھا، جسے عالمی سطح پر سفارتی کامیابی قرار دیا گیا، تاہم بعد میں امریکی حکومت اس سے دستبردار ہو گئی، جس سے اعتماد کو نقصان پہنچا۔

ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق حالیہ کشیدگی اور حملوں کے باوجود ایران نے اپنا مؤقف برقرار رکھا ہے اور یہ ثابت ہو چکا ہے کہ فوجی طاقت سے مسائل کا حل ممکن نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اب بھی مذاکرات کے لیے تیار ہے، لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ دوسری جانب سے بھی سنجیدگی دکھائی جائے۔

انہوں نے ایران کے جوہری پروگرام کو مکمل طور پر پرامن قرار دیتے ہوئے کہا کہ تہران کبھی بھی جوہری ہتھیار بنانے کے حق میں نہیں رہا اور بین الاقوامی معاہدوں کی پابندی کرتا رہا ہے، جبکہ سخت پابندیوں کے باوجود بھی اپنے مؤقف پر قائم ہے۔

بھارت کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نئی دہلی کو اپنے علاقائی تعلقات کے بارے میں واضح حکمت عملی اپنانا ہوگی۔ ان کے مطابق بعض علاقائی فریقین نے مبینہ طور پر ایران کے خلاف کارروائیوں میں غیر مستقیم کردار ادا کیا، تاہم انہوں نے کسی ملک کا نام لینے سے گریز کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران جنگ بندی کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے اور سفارتی رابطوں کا مثبت جواب دیا جا رہا ہے، تاہم موجودہ حالات میں مذاکراتی عمل کو کئی چیلنجز درپیش ہیں۔

Leave a reply