
مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور امریکہ و ایران کے درمیان جاری تنازع کے اثرات کے تناظر میں خطے کی سیکیورٹی صورتحال میں تیزی سے تبدیلیاں دیکھی جا رہی ہیں۔ ان حالات کے پیشِ نظر پاکستان نے عندیہ دیا ہے کہ ترکیہ اور قطر کو بھی سعودی عرب کے ساتھ اس کے دفاعی تعاون کے معاہدے میں شامل کیے جانے کا امکان ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ اس مجوزہ توسیعی فریم ورک پر غور جاری ہے اور مستقبل میں اسے ایک وسیع علاقائی دفاعی ڈھانچے کی شکل دی جا سکتی ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث توانائی کی ترسیل اور سمندری راستوں کی سلامتی پر خدشات میں اضافہ ہو گیا ہے۔
پاکستان اس صورتحال میں ایک سفارتی کردار ادا کرتے ہوئے مختلف فریقین کے درمیان رابطوں کو آسان بنانے اور کشیدگی میں کمی کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
وزیر دفاع نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ اگر ترکیہ اور قطر بھی اس دفاعی تعاون کا حصہ بنتے ہیں تو یہ خطے میں ایک مثبت اور اہم پیش رفت ہوگی، جو مشترکہ سیکیورٹی کے تصور کو مزید مضبوط کرے گی۔
واضح رہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ستمبر 2025 میں ایک دفاعی معاہدہ طے پایا تھا، جس کے تحت کسی ایک ملک پر حملے کو دونوں ممالک پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔
حالیہ مہینوں میں خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون اور سیکیورٹی رابطے مزید مضبوط ہوئے ہیں، جبکہ پاکستان کی فوجی معاونت بھی سعودی عرب میں موجود ہے۔
اگر اس تعاون میں مزید مسلم ممالک شامل ہوتے ہیں تو اسے ایک وسیع تر علاقائی سیکیورٹی پلیٹ فارم کی شکل دینے کا امکان پیدا ہو سکتا ہے، جو خطے میں استحکام اور مشترکہ دفاعی حکمتِ عملی کے لیے اہم ثابت ہو سکتا ہے۔









