سوشل میڈیا کے طبی مشوروں پر اندھا اعتماد خطرناک قرار

0
42
سوشل میڈیا کے طبی مشوروں پر اندھا اعتماد خطرناک قرار

سوشل میڈیا پر صحت کے مشورے؛ ماہرین نے عوام کو محتاط رہنے کی ہدایت کردی

دنیا بھر میں سوشل میڈیا پر صحت، فٹنس اور ذہنی بیماریوں سے متعلق مشورے تیزی سے مقبول ہو رہے ہیں، تاہم طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ہر آن لائن مشورہ درست یا محفوظ نہیں ہوتا۔

ایک نئی تحقیق کے مطابق بڑی تعداد میں لوگ اب صحت سے متعلق معلومات سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور پوڈکاسٹس سے حاصل کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں غلط یا غیر مصدقہ معلومات کے پھیلاؤ کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکہ میں ہر 10 میں سے 4 بالغ افراد صحت کے بارے میں معلومات کے لیے سوشل میڈیا یا پوڈکاسٹس پر انحصار کرتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق لاکھوں فالوورز رکھنے والے متعدد انفلوئنسرز طبی شعبے سے وابستہ نہیں ہوتے بلکہ ذاتی تجربات یا کاروباری مفادات کی بنیاد پر مشورے دیتے ہیں۔

فٹنس ٹرینرز اور طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ صارفین کو ایسے دعوؤں سے محتاط رہنا چاہیے جو خوف، حیرت یا جذبات ابھارنے کے لیے پیش کیے جائیں۔ ان کے مطابق بعض افراد توجہ حاصل کرنے کے لیے سنسنی خیز انداز اپناتے ہیں، حالانکہ ان کے پاس مستند طبی مہارت موجود نہیں ہوتی۔

ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ اگر کوئی ویڈیو یا پوسٹ غیرمعمولی دعوے کرے یا خوف پیدا کرے تو اس پر فوراً یقین کرنے کے بجائے تحقیق کی جائے۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ صحت، طب اور سائنس سے متعلق تمام آراء برابر حیثیت نہیں رکھتیں، اس لیے کسی بھی مشورے پر عمل کرنے سے پہلے مستند ڈاکٹر یا ماہر صحت سے رجوع کرنا ضروری ہے۔

نفسیاتی معالجین کے مطابق ذمہ دار ماہرین ہمیشہ محتاط زبان استعمال کرتے ہیں اور ہر مریض کے مسئلے کو مختلف انداز سے دیکھتے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ سوشل میڈیا پر علامات دیکھ کر خود علاج شروع کرنا نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ زیادہ تر افراد صحت سے متعلق مواد جان بوجھ کر تلاش نہیں کرتے بلکہ اسکرولنگ کے دوران وہ مواد ان کے سامنے آ جاتا ہے۔

ماہرین نے زور دیا ہے کہ کسی بھی طبی مشورے پر عمل سے پہلے اس کے ذرائع اور سائنسی بنیادوں کی جانچ ضروری ہے، جبکہ حتمی رہنمائی ہمیشہ ایسے ڈاکٹر سے لینی چاہیے جو مریض کی طبی تاریخ سے واقف ہو۔

Leave a reply