
امریکہ کے صحت کے نگران ادارے فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) نے ایک اہم پالیسی تبدیلی کرتے ہوئے پہلی بار بالغ سگریٹ نوشوں کے لیے پھلوں کے ذائقے والے الیکٹرانک سگریٹ (ویپ) کی فروخت کی اجازت دے دی ہے۔ ماہرین اس فیصلے کو ایک بڑی پیش رفت قرار دے رہے ہیں، جس کے صحت اور معاشرتی اثرات پر بحث جاری ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ اقدام سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسی سمت میں تبدیلی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے پہلے ایسے ذائقوں پر طویل عرصے تک پابندی عائد رہی تھی تاکہ نوجوانوں کو ویپنگ کی عادت سے بچایا جا سکے۔
اس فیصلے سے لاس اینجلس میں قائم ایک کمپنی کو فائدہ پہنچا ہے، جس کے مینگو، بلیو بیری اور مینتھول ذائقوں والے ویپس اب قانونی طور پر فروخت کیے جا سکیں گے۔ کمپنی ان مصنوعات کو مختلف ناموں سے مارکیٹ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
ویپنگ انڈسٹری کے نمائندگان کا مؤقف ہے کہ ذائقہ دار ویپس بالغ افراد کو روایتی سگریٹ چھوڑنے میں مدد دے سکتے ہیں، جبکہ روایتی تمباکو نوشی امریکہ میں کینسر اور دل کی بیماریوں جیسی وجوہات سے سالانہ بڑی تعداد میں اموات کا سبب بنتی ہے۔
دوسری جانب صحت کے شعبے سے وابستہ تنظیمیں اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق میٹھے اور پھلوں کے ذائقے خاص طور پر کم عمر افراد کو اپنی طرف راغب کرتے ہیں، جس سے نوجوانوں میں ویپنگ کے رجحان میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
ایف ڈی اے نے وضاحت کی ہے کہ یہ اجازت کسی پروڈکٹ کی مکمل منظوری نہیں بلکہ ایک متبادل آپشن ہے، جو صرف بالغ افراد کے لیے ہے تاکہ وہ سگریٹ نوشی ترک کرنے کی کوشش کر سکیں۔ اس کے ساتھ سخت شرائط بھی عائد کی گئی ہیں تاکہ یہ مصنوعات کم عمر افراد کی پہنچ سے دور رہیں۔
ادارے کے مطابق کمپنی نے ایک ڈیجیٹل ایج ویریفکیشن سسٹم متعارف کرایا ہے، جس کے تحت صارفین کو موبائل فون کے ذریعے سرکاری شناختی کارڈ سے اپنی عمر کی تصدیق کرنا ہوگی۔ تصدیق کے بعد ہی ڈیوائس فعال ہو سکے گی۔
تمباکو نوشی کے خلاف کام کرنے والی تنظیم ٹروتھ انیشیٹو کی نمائندہ نے اس فیصلے کو ایک اہم آزمائش قرار دیتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کے تحفظ کے لیے مسلسل نگرانی ضروری ہوگی، اور اگر منفی اثرات سامنے آئے تو پالیسی پر نظرثانی کی جا سکتی ہے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ میں نوعمر افراد میں ویپنگ کی شرح گزشتہ دہائی کی کم ترین سطح پر ہے، تاہم ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ ذائقہ دار مصنوعات ماضی میں نوجوانوں کو زیادہ متاثر کرتی رہی ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس نئی اجازت سے مقامی ویپنگ انڈسٹری کو فروغ مل سکتا ہے، تاہم اس کے صحت عامہ پر اثرات کو بغور دیکھنا ہوگا۔








