پاکستان سمیت خلیجی ممالک کا یو اے ای سے اظہارِ یکجہتی

0
6
پاکستان سمیت خلیجی ممالک کا یو اے ای سے اظہارِ یکجہتی

ایران نے متحدہ عرب امارات پر ہونے والے حالیہ میزائل اور ڈرون حملوں میں ملوث ہونے کی تردید کر دی ہے، جبکہ خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران کا ان حملوں سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی اس نوعیت کی کوئی منصوبہ بندی کی گئی تھی۔ ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ وہ اپنی کارروائیوں کی ذمہ داری عموماً کھل کر قبول کرتے ہیں، مگر اس معاملے میں ایسا کچھ نہیں ہوا۔
دوسری جانب متحدہ عرب امارات نے الزام عائد کیا ہے کہ پیر کے روز اس پر میزائلوں اور ڈرونز سے حملہ کیا گیا۔ اماراتی وزارت دفاع کے مطابق ان کے فضائی دفاعی نظام نے متعدد بیلسٹک اور کروز میزائلوں کے ساتھ ساتھ ڈرونز کو فضا میں ہی تباہ کر دیا۔ حکام کے مطابق حملے کے نتیجے میں فجیرہ میں ایک آئل ریفائنری میں آگ بھڑک اٹھی جبکہ چند افراد زخمی بھی ہوئے۔
اماراتی وزارت خارجہ نے اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ملک کو اپنے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے۔
ادھر ایرانی خبر رساں ذرائع کے مطابق ایک فوجی عہدیدار نے خبردار کیا ہے کہ اگر امارات کی جانب سے کوئی سخت اقدام اٹھایا گیا تو ایران اپنے مفادات کے دفاع کے لیے ردعمل دے سکتا ہے۔
یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں پہلے ہی کشیدگی موجود ہے۔ حالیہ پیش رفت کو جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ عالمی برادری نے فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل نکالنے پر زور دیا ہے۔
متعدد ممالک بشمول سعودی عرب، پاکستان اور دیگر خلیجی ریاستوں نے متحدہ عرب امارات کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ یورپی رہنماؤں نے بھی اس واقعے کو بین الاقوامی قوانین کے منافی قرار دیا ہے۔
پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے زور دیا ہے کہ کشیدگی کم کی جائے اور امن کے لیے سفارتی راستہ اختیار کیا جائے۔
احتیاطی اقدامات کے طور پر متحدہ عرب امارات میں تعلیمی اداروں کو عارضی طور پر آن لائن کر دیا گیا ہے جبکہ کچھ غیر ضروری عملے کو بھی ملک سے باہر منتقل کیا جا رہا ہے۔

Leave a reply