ایران کا اقوام متحدہ میں امریکا کے خلاف سخت احتجاج

ایران نے امریکا کی جانب سے اس کے بحری جہازوں کو روکنے اور مبینہ طور پر قبضے میں لینے کے اقدامات پر اقوام متحدہ سے رجوع کرتے ہوئے شدید احتجاج کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ ان جہازوں کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔
اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر امیر سعید ایروانی نے سیکرٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے صدر کو لکھے گئے خط میں کہا ہے کہ امریکی اقدامات بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں اور انہیں بحری قزاقی کے مترادف سمجھا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق یہ طرز عمل عالمی تجارت میں غیر قانونی مداخلت اور املاک پر ناجائز قبضے کے زمرے میں آتا ہے۔
ادھر ایرانی فوج کے ترجمان نے کہا ہے کہ اگرچہ امریکا کے ساتھ کشیدگی میں کچھ کمی آئی ہے، تاہم دفاعی تیاری مکمل طور پر برقرار ہے اور مختلف ممکنہ اہداف سے متعلق فہرستوں کو مسلسل اپ ڈیٹ کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب بحیرہ عرب میں امریکی بحری سرگرمیاں جاری ہیں۔ امریکی سینٹرل کمان کا کہنا ہے کہ مشتبہ سمجھے جانے والے ایک جہاز کو روک کر اس کی تلاشی لی گئی، جبکہ اب تک متعدد جہازوں کو روک کر ان کے راستے تبدیل کرنے پر مجبور کیا جا چکا ہے۔









