عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلی اور ممکنہ ”سپر ایل نینو“ کے اثرات پر تشویش، 2026 میں خطرات بڑھنے کا امکان

0
6
عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلی اور ممکنہ ”سپر ایل نینو“ کے اثرات پر تشویش، 2026 میں خطرات بڑھنے کا امکان

دنیا بھر میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات پہلے ہی واضح طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں، جبکہ ماہرین بحرالکاہل میں پیدا ہونے والے ایک طاقتور موسمی رجحان ”سپر ایل نینو“ کے ممکنہ ابھار پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ صورتحال 2026 میں شدت اختیار کرتی ہے تو عالمی درجہ حرارت میں مزید اضافہ اور موسموں کے معمولات میں بڑی تبدیلیاں سامنے آ سکتی ہیں۔
بین الاقوامی موسمیاتی اداروں کی رپورٹس کے مطابق جنوبی ایشیا، خصوصاً پاکستان اور بھارت کے کئی علاقوں میں غیر معمولی گرمی کی لہر دیکھی جا رہی ہے۔ مختلف شہروں میں درجہ حرارت معمول سے زیادہ ریکارڈ ہو رہا ہے جبکہ رات کے اوقات میں بھی گرمی کی شدت برقرار ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آئندہ مہینوں میں یہ صورتحال مزید سخت ہو سکتی ہے۔
موسمیاتی ماہرین کے مطابق بحرالکاہل میں سمندری درجہ حرارت اور ہواؤں کے نظام میں ہونے والی تبدیلیاں اس بات کی نشاندہی کر رہی ہیں کہ ایل نینو کا ایک زیادہ طاقتور مرحلہ تشکیل پا سکتا ہے، جسے بعض موسمی ماڈلز میں ”سپر ایل نینو“ کہا جا رہا ہے۔ یہ رجحان گزشتہ کئی دہائیوں کے نسبتاً شدید ترین موسمی واقعات میں شمار کیا جا سکتا ہے۔
عام طور پر ایل نینو ایک قدرتی موسمی عمل ہے جو چند سال کے وقفے سے ظاہر ہوتا ہے۔ اس دوران سمندر کی سطحی حرارت بڑھتی ہے اور فضائی دباؤ کے نظام میں تبدیلی آتی ہے، جس کے نتیجے میں دنیا کے مختلف خطوں میں کہیں شدید بارشیں، کہیں خشک سالی اور کہیں گرمی کی غیر معمولی شدت دیکھنے کو ملتی ہے۔
ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر یہ رجحان ”سپر ایل نینو“ کی شکل اختیار کرتا ہے تو اس کے اثرات زیادہ وسیع اور شدید ہو سکتے ہیں۔ اس سے مون سون بارشوں میں کمی، خشک سالی میں اضافہ، زرعی پیداوار میں کمی اور پانی کی قلت جیسے مسائل پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ توانائی کے شعبے پر بھی اضافی دباؤ پڑ سکتا ہے۔
اگرچہ ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ پیشگوئیوں میں ابھی کچھ غیر یقینی پہلو موجود ہیں، تاہم آئندہ چند ماہ میں صورتحال زیادہ واضح ہونے کی توقع ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق اگر یہ موسمی رجحان شدت اختیار کرتا ہے تو اس کے اثرات کسی ایک خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی سطح پر محسوس کیے جائیں گے۔

Leave a reply