چین کے چونگ چنگ میں موجود شیاوزہائی تیان کنگ: ایک قدرتی حیرت

0
18
چین کے چونگ چنگ میں موجود شیاوزہائی تیان کنگ: ایک قدرتی حیرت

چین کے جنوب مغربی علاقے چونگ چنگ میں واقع ایک وسیع قدرتی گڑھا، جسے مقامی طور پر شیاوزہائی تیان کنگ یعنی “آسمانی گڑھا” کہا جاتا ہے، اپنی غیر معمولی گہرائی اور حیرت انگیز قدرتی ساخت کی وجہ سے عالمی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔
یہ دیوہیکل سنک ہول ایک پرانے اور اب غیر آباد گاؤں شیاوزہائی کے قریب واقع ہے اور مقامی لوگوں کے لیے صدیوں سے ایک معروف قدرتی مقام سمجھا جاتا ہے۔ “تیان کنگ” اس خطے میں ایسے گہرے قدرتی گڑھوں کے لیے استعمال ہونے والی اصطلاح ہے۔
اس قدرتی ساخت کو دنیا کے بڑے سنک ہولز میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس کی گہرائی تقریباً 626 میٹر جبکہ چوڑائی 527 میٹر بتائی جاتی ہے، جس سے اس کی وسعت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ حجم کے لحاظ سے یہ کروڑوں مکعب میٹر پر مشتمل ایک وسیع قدرتی ڈھانچہ ہے۔
ماہرین کے مطابق ایسے سنک ہولز اس وقت بنتے ہیں جب زمین کے نیچے موجود چونا پتھر پانی کے اثر سے آہستہ آہستہ گھلتا رہتا ہے، جس کے نتیجے میں زمین کے اندر خالی جگہیں پیدا ہو جاتی ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ اوپری سطح کمزور ہو کر بیٹھ جاتی ہے، اور یوں یہ گہرے گڑھے وجود میں آتے ہیں۔
شیاوزہائی تیان کنگ کی تشکیل بھی ایک طویل ارضیاتی عمل کا نتیجہ ہے۔ صدیوں تک بارش کا پانی زمین میں جذب ہوتا رہا، جس نے چٹانوں کو کمزور کیا اور دراڑوں کو بڑھایا۔ اسی دوران زیرِ زمین پانی نے غاروں اور سرنگوں کا ایک پیچیدہ نظام تشکیل دیا، جو بالآخر زمین کے دھنسنے کا سبب بنا۔
اس گڑھے کی ساخت خاصی منفرد ہے، جس میں اوپر کا حصہ وسیع جبکہ نیچے کی جانب یہ نسبتاً تنگ ہو جاتا ہے، جو اس کی جغرافیائی تاریخ کو مزید واضح کرتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ وقت کے ساتھ اس گڑھے کے اندر ایک منفرد ماحولیاتی نظام بھی تشکیل پا چکا ہے۔ یہاں کا ماحول نسبتاً ٹھنڈا اور مرطوب ہے، جس نے مختلف پودوں اور جانداروں کو نشوونما کا موقع دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہاں 1200 سے زائد پودوں کی اقسام پائی جاتی ہیں، جن میں قدیم اقسام کے درخت، فرنز اور کائی شامل ہیں۔
کچھ نایاب جنگلی جانور بھی اس علاقے میں دیکھے گئے ہیں، جو اس مقام کی حیاتیاتی اہمیت کو مزید اجاگر کرتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہاں کے پودوں نے کم روشنی اور مخصوص ماحول کے مطابق خود کو ڈھال لیا ہے، جس کے باعث ان کی ساخت اور غذائی اجزاء بھی عام پودوں سے مختلف ہیں۔
یہ قدرتی عجوبہ آج بھی سائنسدانوں اور محققین کے لیے دلچسپی کا مرکز ہے اور زمین کے اندرونی نظام اور ماحولیاتی ارتقا کو سمجھنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

Leave a reply