امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی کے لیے نئی سفارتی کوششیں، پاکستان کے ذریعے تجویز سامنے آگئی

0
6
امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی کے لیے نئی سفارتی کوششیں، پاکستان کے ذریعے تجویز سامنے آگئی

ایران نے امریکا کو ایک نئی سفارتی تجویز پیش کی ہے جس کا مقصد آبنائے ہرمز سے متعلق کشیدگی کم کرنا اور خطے میں جاری تنازع کو ختم کرنا بتایا جا رہا ہے۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس تجویز میں یہ مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ فوری طور پر جوہری مذاکرات کو مؤخر کر کے پہلے زمینی اور بحری کشیدگی کو کم کیا جائے۔
امریکی ویب سائٹ ’ایگزیوس‘ کے مطابق ایک امریکی اہلکار نے بتایا ہے کہ یہ پیشکش اس لیے سامنے آئی ہے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعطل توڑا جا سکے، تاہم ایرانی قیادت میں اس بات پر اتفاق نہیں کہ جوہری پروگرام کے معاملے پر امریکا کو کس حد تک رعایت دی جائے۔
رپورٹ کے مطابق ایران کی تجویز میں کہا گیا ہے کہ اگر اس وقت جوہری معاملہ الگ کر دیا جائے تو ایک تیز رفتار معاہدہ ممکن ہو سکتا ہے، لیکن بعض امریکی حلقوں کے مطابق اس سے وہ دباؤ کم ہو سکتا ہے جو واشنگٹن ایران کی یورینیم افزودگی روکنے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پیر کو اپنی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی ٹیم کے ساتھ اس صورتحال پر اہم اجلاس کی صدارت کریں گے، جس میں مذاکرات کی موجودہ تعطل اور آئندہ لائحہ عمل پر غور کیا جائے گا۔
اتوار کو ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے اشارہ دیا کہ وہ موجودہ بحری پابندی برقرار رکھنے کے حق میں ہیں، جس کے باعث ایران کی تیل برآمدات متاثر ہو رہی ہیں۔ ان کے مطابق اگر تیل کی ترسیل مکمل طور پر رک جائے تو صورتحال تیزی سے بگڑ سکتی ہے۔
دوسری جانب ایران اور امریکا کے درمیان مذاکراتی عمل اس وقت مزید پیچیدہ ہو گیا جب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے حالیہ دورہ پاکستان کے دوران کوئی بڑی پیش رفت سامنے نہ آ سکی۔ پہلے یہ اطلاعات تھیں کہ امریکی نمائندے بھی اسلام آباد میں ملاقات کریں گے، تاہم بعد میں یہ دورہ منسوخ کر دیا گیا۔
امریکی انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ موجودہ حالات میں اعلیٰ سطحی وفود کے طویل سفر کا فائدہ نہیں، اور رابطے فون یا دیگر ذرائع سے بھی ممکن ہیں۔
پسِ پردہ سفارتی ذرائع کے مطابق ایران نے پاکستان، مصر، ترکی اور قطر کے ذریعے یہ پیغام دیا ہے کہ اس کی اندرونی سیاسی قیادت میں امریکا کے مطالبات پر مکمل اتفاق نہیں پایا جاتا۔ تہران کا مؤقف ہے کہ پہلے آبنائے ہرمز اور خطے میں کشیدگی کم کی جائے، ممکنہ جنگ بندی کو طویل کیا جائے اور اس کے بعد جوہری مذاکرات شروع کیے جائیں۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کے مطابق امریکا کسی بھی معاہدے میں واضح مؤقف رکھتا ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، اور واشنگٹن اپنی شرائط پر ہی کسی پیش رفت کو قبول کرے گا۔
پاکستانی حکام نے اس معاملے پر فی الحال کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا ہے، جبکہ سفارتی حلقوں کے مطابق خطے میں ثالثی کی کوششیں بدستور جاری ہیں۔

Leave a reply