امریکا کا ایران کو سخت پیغام، کشیدگی بڑھنے کا خدشہ

واشنگٹن: امریکا کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر معاملات حل نہ ہوئے تو آئندہ چند دنوں میں ایران کے تیل کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے Fox News کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ براہِ راست رابطہ ممکن ہے اور اگر تہران مذاکرات چاہتا ہے تو فون کے ذریعے بھی بات چیت کی جا سکتی ہے۔ ان کے مطابق موجودہ کشیدگی زیادہ دیر برقرار نہیں رہے گی اور امریکا کو اس صورتحال میں برتری حاصل ہوگی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کے اندر مختلف گروہ موجود ہیں اور امریکا ان میں سے بعض کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے، تاہم کچھ عناصر کے ساتھ رابطہ ممکن نہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایران دانشمندی کا مظاہرہ کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ افزودہ یورینیم کا معاملہ بھی جاری مذاکرات کا حصہ ہے اور امریکا اس پر پیش رفت چاہتا ہے۔ چین کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چین اس معاملے میں مزید تعاون کر سکتی ہے، تاہم وہ بیجنگ کے رویے سے مکمل طور پر مایوس نہیں۔
نیٹو کے کردار پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ NATO ایران سے متعلق صورتحال میں امریکا کے ساتھ مؤثر طور پر شامل نہیں تھا، جبکہ بعد میں برطانیہ کی جانب سے بحری مدد کی پیشکش کو انہوں نے غیر مناسب قرار دیا۔
پاکستان اور بھارت کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ اپنے دور میں انہوں نے متعدد بین الاقوامی تنازعات کم کرنے میں کردار ادا کیا، جن میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان کشیدگی بھی شامل تھی۔
ان کے مطابق اس وقت صورتحال انتہائی کشیدہ ہو چکی تھی اور جوہری تصادم کا خطرہ بھی موجود تھا، تاہم سفارتی کوششوں کے ذریعے صورتحال کو قابو میں لایا گیا۔
انہوں نے پاکستان کی قیادت کے لیے احترام کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ دوطرفہ تعلقات کو اہم سمجھتے ہیں اور پاکستانی قیادت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔









