امریکہ میں پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ، سیاسی بحث شدت اختیار کر گئی

0
16
امریکہ میں پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ، سیاسی بحث شدت اختیار کر گئی

امریکہ میں پیٹرول کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ ملکی سیاست میں اہم موضوع بن گیا ہے، جبکہ ایک تازہ عوامی رائے عامہ کے جائزے میں زیادہ تر ووٹرز نے اس صورتحال کی ذمہ داری صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر عائد کی ہے۔
بین الاقوامی اداروں کے ایک مشترکہ سروے کے مطابق 77 فیصد رجسٹرڈ ووٹرز کا کہنا ہے کہ پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کسی نہ کسی حد تک صدر ٹرمپ کی پالیسیوں سے منسلک ہے۔ سیاسی جماعتوں کی بنیاد پر رائے میں بھی واضح فرق دیکھا گیا، جہاں 55 فیصد ریپبلکن ووٹرز، 82 فیصد آزاد ووٹرز اور 95 فیصد ڈیموکریٹ ووٹرز نے اسی مؤقف کی تائید کی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اس وقت تیز ہوا جب امریکا اور اس کے اتحادیوں کے ایران کے ساتھ کشیدگی کے بعد خطے میں صورتحال مزید خراب ہوئی، جس کے اثرات عالمی تیل کی سپلائی پر بھی پڑے۔
سروے کے مطابق 58 فیصد ووٹرز نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ آئندہ وسط مدتی انتخابات میں ایسے امیدواروں کی حمایت کم کر سکتے ہیں جو ایران سے متعلق موجودہ پالیسیوں کی حمایت کرتے ہیں۔ اس رجحان میں مختلف سیاسی جماعتوں کے ووٹرز شامل ہیں، خاص طور پر آزاد ووٹرز کی بڑی تعداد اس رائے کی حامل ہے۔
رپورٹ کے مطابق حالیہ اضافے کے بعد امریکا میں پیٹرول کی اوسط قیمت تقریباً 4 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی ہے، جو گزشتہ عرصے کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال نہ صرف معاشی دباؤ میں اضافہ کر رہی ہے بلکہ اس کے سیاسی اثرات بھی آئندہ انتخابات میں سامنے آ سکتے ہیں۔

Leave a reply