امریکا نے ایران سے منسلک 344 ملین ڈالر کی کرپٹو کرنسی منجمد کر دی

0
9
امریکا نے ایران سے منسلک 344 ملین ڈالر کی کرپٹو کرنسی منجمد کر دی

امریکا نے ایران سے مبینہ طور پر منسلک کرپٹو کرنسی نیٹ ورکس اور تیل کی تجارت سے جڑے اداروں پر نئی پابندیاں عائد کرتے ہوئے کروڑوں ڈالر مالیت کے ڈیجیٹل اثاثے منجمد کر دیے ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق تقریباً 344 ملین ڈالر کی کرپٹو کرنسی کو فریز کیا گیا ہے، جسے ایران سے وابستہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اس اقدام کو ایران پر مالی دباؤ بڑھانے کی ایک تازہ کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ ایران کے مالی وسائل کو محدود کرنے کے لیے اقدامات جاری رکھے جائیں گے اور بیرون ملک منتقل ہونے والی رقوم کی نگرانی مزید سخت کی جائے گی۔
رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی سامنے آیا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے کرپٹو کرنسی کی صورت میں فیس وصول کر رہا ہے، تاہم اس کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
امریکی محکمہ خزانہ نے اس کے ساتھ چین سے تعلق رکھنے والی بعض آئل ریفائنریوں، شپنگ کمپنیوں اور آئل ٹینکرز پر بھی پابندیاں عائد کی ہیں، جن پر ایران کی تیل برآمدات میں معاونت کا الزام ہے۔
کچھ میڈیا رپورٹس میں ٹیثر سے منسلک اکاؤنٹس کا بھی ذکر کیا گیا ہے، تاہم ان کے ایران سے تعلق کی مکمل تصدیق نہیں ہو سکی۔
امریکی حکام کے مطابق ایران بین الاقوامی مالی لین دین کو خفیہ رکھنے کے لیے پیچیدہ طریقے استعمال کر رہا ہے اور ڈیجیٹل اثاثوں کے ذریعے پابندیوں کے باوجود اپنی معیشت کو سہارا دینے کی کوشش کر رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ ساتھ روس اور شمالی کوریا جیسے ممالک بھی، جو عالمی پابندیوں کا سامنا کر رہے ہیں، تیزی سے کرپٹو کرنسی کی طرف مائل ہو رہے ہیں کیونکہ یہ روایتی بینکاری نظام کے مقابلے میں کم ریگولیٹڈ سمجھی جاتی ہے اور اس کے ذریعے پابندیوں سے بچنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

Leave a reply