شہباز شریف کا ای وی پالیسی پر عملدرآمد تیز کرنے کا حکم

0
9
شہباز شریف کا ای وی پالیسی پر عملدرآمد تیز کرنے کا حکم

الیکٹرک وہیکلز (EVs) اب صرف جدید ٹیکنالوجی کی علامت نہیں رہے بلکہ یہ مستقبل کی ایک ناگزیر ضرورت بن چکے ہیں۔ پاکستان میں بھی اس تبدیلی کی رفتار تیز کرنے کے لیے حکومت نے عملی اقدامات شروع کر دیے ہیں، اور حالیہ ہدایات اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہیں۔
حالیہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے شہباز شریف نے متعلقہ اداروں کو الیکٹرک وہیکلز کے فروغ کے عمل کو مزید تیز کرنے کی ہدایت دی۔ اس اجلاس میں ای وی پالیسی پر ہونے والی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت اس شعبے کو سنجیدگی سے آگے بڑھانے کے لیے پرعزم ہے۔
ای وی سیکٹر میں پیش رفت
حکام کی جانب سے دی گئی بریفنگ کے مطابق ملک میں الیکٹرک موٹرسائیکل اور رکشہ سازی کے لیے 72 مینوفیکچرنگ سرٹیفکیٹس جاری کیے جا چکے ہیں، جبکہ الیکٹرک گاڑیوں کے لیے 4 کمپنیوں کو اجازت دی گئی ہے۔ یہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان میں ای وی انڈسٹری بتدریج اپنی جڑیں مضبوط کر رہی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ ملک بھر میں چارجنگ انفراسٹرکچر کی ترقی بھی زیر غور ہے، جہاں اب تک 123 درخواستیں موصول ہو چکی ہیں۔ یہ اقدام ای وی صارفین کے لیے ایک اہم سہولت فراہم کرے گا، کیونکہ چارجنگ اسٹیشنز کی دستیابی اس ٹیکنالوجی کے فروغ میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔
مستقبل کی حکمت عملی
حکومت کا ہدف ہے کہ آئندہ پانچ برسوں میں 30 فیصد گاڑیوں کو بجلی پر منتقل کیا جائے۔ اگر یہ ہدف حاصل ہو جاتا ہے تو نہ صرف ایندھن کی درآمدات میں نمایاں کمی آئے گی بلکہ ملک کو قیمتی زرِ مبادلہ بھی بچانے میں مدد ملے گی۔
ماحولیاتی اور معاشی فوائد
الیکٹرک وہیکلز کے استعمال سے فضائی آلودگی میں کمی آئے گی، جو کہ پاکستان جیسے ممالک کے لیے انتہائی اہم ہے جہاں بڑے شہروں میں اسموگ ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے۔ اس کے علاوہ، یہ اقدام توانائی کے تحفظ اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔
عوامی سطح پر اثرات
حکومت نے کم آمدنی والے افراد کے لیے الیکٹرک موٹرسائیکلوں پر سبسڈی فراہم کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔ تاہم وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ اس سبسڈی کے نظام میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے تاکہ مستحق افراد ہی اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔
نتیجہ
پاکستان میں الیکٹرک وہیکلز کا فروغ نہ صرف ایک تکنیکی پیش رفت ہے بلکہ یہ معاشی، ماحولیاتی اور سماجی بہتری کی جانب ایک اہم قدم بھی ہے۔ اگر حکومتی پالیسیوں پر مؤثر انداز میں عملدرآمد جاری رہا تو آنے والے برسوں میں پاکستان کی سڑکوں پر روایتی گاڑیوں کے مقابلے میں الیکٹرک وہیکلز کی تعداد نمایاں طور پر بڑھ سکتی ہے۔

Leave a reply