
مصنوعی ذہانت کے میدان سے ایک اہم اور تشویشناک پیش رفت سامنے آئی ہے، جس میں ایک معروف اے آئی کمپنی کے جدید ماڈل تک غیر مجاز افراد کی رسائی کا انکشاف ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق کمپنی کے ایک انتہائی طاقتور اور محدود استعمال کے حامل ماڈل تک تھرڈ پارٹی نظام کے ذریعے غیر متعلقہ صارفین نے رسائی حاصل کر لی۔
ذرائع کے مطابق یہ ماڈل عام استعمال کے لیے جاری نہیں کیا گیا تھا بلکہ اسے صرف مخصوص شراکت دار اداروں کو محدود ٹیسٹنگ کے لیے فراہم کیا گیا تھا۔ ابتدائی معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ رسائی کسی براہ راست سسٹم حملے کے ذریعے نہیں بلکہ ایک تیسرے فریق کے وینڈر اکاؤنٹ کی معلومات کے غلط استعمال سے ممکن ہوئی۔
بتایا گیا ہے کہ متعلقہ گروپ نے پرانے سسٹم پیٹرنز اور آن لائن ایڈریسز کے اندازے لگا کر اس ماڈل تک پہنچنے کی کوشش کی۔ یہ گروپ ایک نجی آن لائن کمیونٹی سے منسلک بتایا جا رہا ہے جو نئی اور غیر ریلیز شدہ ٹیکنالوجیز پر تجربات اور معلومات حاصل کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔
کمپنی کے ترجمان نے واقعے کی تحقیقات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ فی الحال اس بات کے شواہد نہیں ملے کہ کمپنی کے اندرونی سسٹمز متاثر ہوئے ہوں۔ ان کے مطابق ممکنہ طور پر یہ رسائی صرف تھرڈ پارٹی ماحول تک محدود رہی۔
رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مذکورہ ماڈل اپنی جدید صلاحیتوں کی وجہ سے سائبر سیکیورٹی کے ماہرین کی توجہ کا مرکز رہا ہے، کیونکہ یہ پیچیدہ سسٹمز میں موجود کمزوریوں کی نشاندہی اور ان کے ممکنہ تجزیے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اگرچہ اب تک اس کے کسی غلط یا نقصان دہ استعمال کی تصدیق نہیں ہوئی، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اتنی حساس ٹیکنالوجی تک غیر مجاز رسائی مصنوعی ذہانت کی سیکیورٹی اور کنٹرول سسٹمز پر سنگین سوالات اٹھاتی ہے۔
یہ واقعہ اس بات کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے کہ جدید اے آئی ماڈلز کے تحفظ کے لیے مزید سخت اور مؤثر حفاظتی اقدامات کی ضرورت بڑھتی جا رہی ہے، تاکہ مستقبل میں اس نوعیت کے خطرات کو روکا جا سکے۔









