لبنان اسرائیل مذاکرات ایران تنازع سے الگ رکھنے کا اعلان

0
10
لبنان اسرائیل مذاکرات ایران تنازع سے الگ رکھنے کا اعلان

لبنان کے صدر جوزف عون نے کہا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ جاری امن مذاکرات کو ایران سے متعلق تنازع سے الگ رکھا جانا چاہیے تاکہ بات چیت مؤثر طریقے سے آگے بڑھ سکے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، گزشتہ ہفتے واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے سفیروں کے درمیان ملاقات ہوئی، جو چار دہائیوں سے زائد عرصے میں دونوں ممالک کے درمیان پہلی باضابطہ دوطرفہ ملاقات تھی۔
صدر عون نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ لبنان اس وقت ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے، جہاں اسے دو راستوں میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہے: جنگ کا تسلسل، جس کے نتیجے میں انسانی، معاشی اور خودمختاری کے شدید مسائل پیدا ہوں گے، یا مذاکرات کے ذریعے جنگ کا خاتمہ اور پائیدار استحکام کا حصول۔
انہوں نے واضح کیا کہ حکومت ایران کی حمایت یافتہ تنظیم حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ تاہم ایران نے اس تنازع کو اسرائیل کے ساتھ اپنے وسیع تر اختلافات سے جوڑتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیل حزب اللہ پر حملے بند کرے، اور اسے امریکا کے ساتھ ممکنہ جنگ بندی کی شرط قرار دیا ہے۔
صدر عون کے مطابق، مذاکرات کے اہم نکات میں دشمنانہ کارروائیوں کا خاتمہ، جنوبی لبنان سے اسرائیلی افواج کا انخلا، اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ سرحدوں تک لبنانی فوج کی تعیناتی شامل ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکی دباؤ کے باعث اسرائیل کو جنگ بندی پر آمادہ کیا گیا، جس سے مذاکرات کی راہ ہموار ہوئی۔
ان کا کہنا تھا کہ جنگ بندی برقرار رکھنے اور مذاکرات کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے رابطے جاری ہیں، اور امکان ہے کہ بات چیت کا سلسلہ اسی ہفتے دوبارہ شروع ہو جائے گا۔ ابتدائی مرحلے میں مذاکرات سفیروں کی سطح پر ہوں گے، جس کے بعد ایک اعلیٰ سطحی وفد اس عمل کو آگے بڑھائے گا۔
صدر عون نے امید ظاہر کی کہ مذاکرات کے ذریعے لبنان کو موجودہ بحران سے نکالا جا سکے گا۔
دوسری جانب، ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے عندیہ دیا ہے کہ اگر ایران اور امریکا کے درمیان کوئی جامع جنگ بندی طے پاتی ہے تو اس میں لبنان کو بھی شامل کیا جانا چاہیے۔
ادھر اسرائیلی وزیر اعظم نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج جنوبی لبنان میں اپنی پوزیشنز برقرار رکھے گی، جبکہ عارضی جنگ بندی اس ہفتے کے اختتام پر ختم ہونے والی ہے۔
رپورٹس کے مطابق، جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی افواج نے جنوبی لبنان کے متعدد دیہات میں کارروائیاں کی ہیں، جنہیں اسرائیل حزب اللہ کے انفراسٹرکچر کے خلاف آپریشن قرار دیتا ہے۔ تاہم لبنانی حکام کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں شہری علاقوں کو شدید نقصان پہنچا ہے، جسے وہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہیں۔

Leave a reply