بیسویں صدی کے انقلابات نے عالمی سیاست کا نقشہ بدل دیا

0
8
بیسویں صدی کے انقلابات نے عالمی سیاست کا نقشہ بدل دیا

بیسویں صدی میں دنیا نے تین بڑے انقلابات دیکھے جنہوں نے عالمی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ 1917 کا بالشویک انقلاب روس میں برپا ہوا جس کے نتیجے میں سوویت یونین قائم ہوا، تاہم یہ ریاست 1991 میں تحلیل ہو گئی۔ اس کے برعکس 1949 کا چینی انقلاب آج بھی جاری سیاسی نظام کی بنیاد ہے، اور عوامی جمہوریہ چین عالمی طاقت کے طور پر ابھر رہا ہے۔ 1979 میں ایرانی اسلامی انقلاب نے امام روح اللہ خمینی کی قیادت میں ایران کی بادشاہت کا خاتمہ کر دیا۔
سوویت یونین کے خاتمے کے بعد مغربی طاقتوں کی توجہ چین کی بڑھتی ہوئی طاقت پر مرکوز رہی۔ 1989 میں تیانمن اسکوائر احتجاج کے دوران سیاسی کشیدگی بڑھی، تاہم چینی قیادت نے صورتحال پر قابو پا لیا۔
مشرقِ وسطیٰ میں ایران کی سیاسی حیثیت بدستور اہم ہے۔ خطے میں بدلتی ہوئی صورتحال، علاقائی اتحاد اور عالمی طاقتوں کی پالیسیاں مسلسل زیر بحث رہتی ہیں۔ 1980 میں ایران عراق جنگ کا آغاز صدام حسین کی قیادت میں عراق کے حملے سے ہوا، جو آٹھ سال جاری رہی۔ بعد ازاں 2003 میں عراق پر امریکی حملے کے دوران صدام حسین کی حکومت کا خاتمہ ہو گیا۔
ایران میں علی خامنہ ای کی قیادت میں نظام برقرار ہے، جبکہ ملک کی سیاسی اور سماجی سمت پر عالمی سطح پر بحث جاری رہتی ہے۔ تاریخی طور پر ایران ایک قدیم تہذیب کا حامل ملک ہے جس نے مختلف ادوار میں فکری اور ثقافتی اثرات قبول کیے۔
فکری سطح پر مولانا جلال الدین رومی، ڈاکٹر محمد اقبال اور ڈاکٹر علی شریعتی جیسے مفکرین نے مسلم دنیا میں فکری بیداری میں کردار ادا کیا۔ ان شخصیات کے نظریات آج بھی علمی و ادبی حلقوں میں زیر بحث رہتے ہیں۔
عالمی سطح پر توانائی کے وسائل، خصوصاً تیل، مشرقِ وسطیٰ کی اہمیت کو بڑھاتے ہیں۔ اسی وجہ سے بڑی طاقتوں کی پالیسیاں اکثر اس خطے کے گرد گھومتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق خطے میں امن اور استحکام کے لیے سفارتی حل اور باہمی تعاون ناگزیر ہیں۔
بین الاقوامی سیاست میں ڈونلڈ ٹرمپ اور بنجمن نیتن یاہو جیسے رہنماؤں کی پالیسیاں بھی عالمی مباحث کا حصہ رہی ہیں۔ مسئلہ فلسطین کے حل کے لیے دو ریاستی حل کی تجویز طویل عرصے سے زیر غور ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اکیسویں صدی میں عالمی طاقت کا توازن تبدیل ہو رہا ہے، جہاں ایشیائی ممالک خصوصاً چین کا کردار بڑھ رہا ہے۔ اس بدلتی ہوئی دنیا میں امن، تعاون اور مکالمہ ہی پائیدار ترقی کی بنیاد بن سکتے ہیں۔

Leave a reply