
وفاقی حکومت نے سول سرونٹس کنڈکٹ رولز 2026 کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، جن کا اطلاق ملک بھر کے تمام سرکاری ملازمین پر فوری طور پر ہوگا۔ نئے قواعد کی منظوری وزیراعظم کی ہدایت پر دی گئی اور انہیں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے جاری کیا۔
نئے ضوابط کے تحت گریڈ 17 اور اس سے اوپر کے تمام افسران کے لیے ہر سال اپنے اثاثوں کی تفصیلات ظاہر کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ سرکاری ملازمین کو اپنی جائیداد اور مالی تفصیلات ایک ڈیجیٹل پورٹل پر جمع کرانی ہوں گی، جبکہ ان کی جانچ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کرے گا۔
قواعد میں مفادات کے ٹکراؤ سے بچنے کے لیے واضح ہدایت دی گئی ہے کہ ایسے حالات میں متعلقہ افسر فیصلہ سازی کے عمل سے الگ رہے گا۔ اسی طرح سرکاری ملازمین اور ان کے اہل خانہ کے لیے تحائف قبول کرنے پر سخت پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ بیرونی اعزازات یا ایوارڈز لینے کے لیے بھی پیشگی حکومتی اجازت لازمی ہوگی۔
سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل سرگرمیوں کے حوالے سے بھی نئے ضوابط متعارف کرائے گئے ہیں۔ سرکاری ملازمین کو بلاگ، ولاگ یا کسی بھی میڈیا پلیٹ فارم کے استعمال کے لیے اجازت لینا ہوگی، جبکہ سرکاری معلومات کو سوشل میڈیا پر شیئر کرنا ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ ذاتی اور سرکاری اکاؤنٹس کو الگ رکھنا بھی لازمی ہوگا۔
قواعد کے مطابق حکام کسی بھی وقت سرکاری ملازمین سے ان کی سوشل میڈیا سرگرمیوں کی تفصیلات طلب کرسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے، کسی جماعت کی حمایت یا سیاسی پالیسیوں پر اظہارِ رائے پر بھی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
مزید یہ کہ سرکاری ملازمین کو بغیر اجازت کسی نجی ادارے یا غیر سرکاری تنظیم میں ملازمت کرنے کی اجازت نہیں ہوگی، چاہے وہ جز وقتی ہو یا مکمل۔
حکومت کے مطابق ان نئے قواعد کا مقصد سرکاری نظام میں شفافیت، دیانتداری اور نظم و ضبط کو مزید بہتر بنانا ہے۔








