غلط طریقے سے سانس لینا صحت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے، ماہرین کا انتباہ

0
20
غلط طریقے سے سانس لینا صحت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے، ماہرین کا انتباہ

ماہرینِ طب نے خبردار کیا ہے کہ بظاہر صحت مند افراد بھی غیر شعوری طور پر غلط انداز میں سانس لینے کے عادی ہو سکتے ہیں، جس کے اثرات ان کی جسمانی اور ذہنی صحت پر پڑتے ہیں۔ اس کیفیت کو طبی زبان میں “بریدھنگ پیٹرن ڈس آرڈر” کہا جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب انسان کو بغیر کسی واضح بیماری کے بھی سانس لینے میں دشواری یا سانس پھولنے کا احساس ہونے لگے۔ اگر کسی کو پہلے سے دمہ یا دیگر سانس کی بیماریاں لاحق ہوں تو یہ علامات مزید شدید ہو سکتی ہیں۔
چونکہ زیادہ تر لوگ سانس لینے کے عمل پر توجہ نہیں دیتے، اس لیے انہیں یہ احساس ہی نہیں ہوتا کہ وہ غلط طریقے سے سانس لے رہے ہیں۔
اپنا سانس چیک کرنے کا آسان طریقہ
ماہرین کے مطابق آپ گھر بیٹھے اپنا سانس چیک کر سکتے ہیں:
آرام سے لیٹ جائیں یا سیدھے بیٹھ جائیں
ایک ہاتھ سینے پر اور دوسرا پیٹ پر رکھیں
سانس لیتے وقت اگر پیٹ والا ہاتھ اوپر اٹھے تو یہ درست سانس لینے کی علامت ہے
درست سانس لینے کا طریقہ یہ ہے کہ سانس ناک کے ذریعے، آہستہ اور خاموشی سے لیا جائے، جبکہ غلط طریقے میں سانس تیز، ہلکا اور اکثر منہ کے ذریعے لیا جاتا ہے، جس میں کندھوں کی حرکت زیادہ ہوتی ہے۔
غلط سانس لینے کے نقصانات
ماہرین کے مطابق غلط سانس لینے سے درج ذیل مسائل پیدا ہو سکتے ہیں:
بلاوجہ ذہنی دباؤ اور بے چینی
گھبراہٹ کے دورے
گردن اور کندھوں میں درد
مسلسل تھکاوٹ
نیند کی خرابی
سر چکرانا یا سانس کی کمی کا احساس
ان کا کہنا ہے کہ صحت مند رہنے کے لیے ناک کے ذریعے گہرا، آہستہ اور متوازن سانس لینا نہایت ضروری ہے۔ اگر سانس میں بے ترتیبی محسوس ہو تو خود کو پرسکون رکھنے کی کوشش کریں اور مثبت خیالات پر توجہ دیں۔
ماہرین روزانہ چند منٹ گہرے سانس کی مشق کرنے کا مشورہ دیتے ہیں تاکہ جسم کا قدرتی توازن برقرار رہے۔ درست سانس لینے کا عمل نہ صرف آکسیجن کی فراہمی بہتر بناتا ہے بلکہ اعصابی نظام کو سکون دے کر دل کی دھڑکن اور بلڈ پریشر کو بھی متوازن رکھتا ہے۔

Leave a reply