مشرق وسطیٰ میں ایٹمی پالیسیوں پر دوہرا معیار اور اسرائیل و ایران کا تقابلی جائزہ

مشرقِ وسطیٰ میں ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلاؤ کے حوالے سے عالمی قوانین کے اطلاق پر اکثر سوالات اٹھتے رہے ہیں، خصوصاً جب اسرائیل اور ایران کے جوہری پروگراموں کا موازنہ کیا جاتا ہے۔
اسرائیل کے بارے میں بین الاقوامی سطح پر یہ عام خیال پایا جاتا ہے کہ وہ ایٹمی ہتھیاروں کی صلاحیت رکھتا ہے، تاہم اس نے کبھی نہ تو اس کی تصدیق کی ہے اور نہ ہی تردید۔ اسی وجہ سے اس کی جوہری پالیسی کو عموماً “مبہم پالیسی” کہا جاتا ہے۔ اسرائیل نے اب تک ایٹمی عدم پھیلاؤ کے عالمی معاہدے (NPT) پر دستخط نہیں کیے، جس کے باعث اس کے ایٹمی ڈھانچے پر بین الاقوامی اداروں کی براہِ راست نگرانی محدود ہے۔
ماہرین کے مطابق اسرائیل کے جوہری پروگرام کی بنیاد 1950 کی دہائی میں رکھی گئی تھی اور اس دوران اسے بعض یورپی ممالک کی تکنیکی معاونت بھی حاصل رہی۔ صحرائے نقب میں واقع دیمونا تنصیب کو طویل عرصے سے اسرائیل کے جوہری پروگرام کا اہم مرکز سمجھا جاتا ہے، جہاں مبینہ طور پر ہتھیاروں کے لیے مواد تیار کیا جاتا ہے۔ مختلف اندازوں کے مطابق اسرائیل کے پاس درجنوں سے لے کر تقریباً دو سو تک جوہری وار ہیڈز موجود ہو سکتے ہیں، تاہم اس کی کوئی سرکاری تصدیق موجود نہیں۔
1980 کی دہائی میں ایک سابق تکنیکی ماہر کی جانب سے دیمونا تنصیب سے متعلق معلومات سامنے لانے کے بعد اس معاملے نے عالمی توجہ حاصل کی، جس کے بعد اسرائیل کی ایٹمی پالیسی پر مزید سوالات اٹھے۔
دوسری جانب ایران کا جوہری پروگرام 1950 کی دہائی میں شروع ہوا، جو بعد ازاں 1979 کے انقلاب کے بعد مختلف مراحل سے گزرتا رہا۔ ایران NPT کا رکن ہے اور اس کا موقف ہے کہ اس کا ایٹمی پروگرام مکمل طور پر پرامن مقاصد جیسے توانائی اور طبی استعمال کے لیے ہے۔
بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے ساتھ ایران کے معائنے اور نگرانی کے معاہدے بھی موجود رہے ہیں، اور ماضی میں ادارے نے بعض ادوار میں اس کے وعدوں کی پاسداری کی تصدیق بھی کی۔
2015 میں ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان ایک اہم معاہدہ ہوا، جس کے تحت ایران نے یورینیم افزودگی پر پابندیاں قبول کیں اور سخت نگرانی پر رضامندی ظاہر کی۔ تاہم بعد میں امریکہ کے اس معاہدے سے الگ ہونے کے بعد صورتحال تبدیل ہو گئی اور ایران نے بھی اپنی افزودگی کی سطح میں اضافہ کیا۔
اسرائیل اور ایران کے حوالے سے عالمی پالیسیوں پر ناقدین کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی برتاؤ میں یکسانیت نظر نہیں آتی۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق ایک جانب اسرائیل کو اس کی اسٹریٹجک اہمیت کی وجہ سے کم دباؤ کا سامنا ہے، جبکہ دوسری جانب ایران پر زیادہ سخت پابندیاں اور نگرانی عائد کی جاتی ہے۔
یہ بحث بین الاقوامی قانون، خطے کی سیاست اور عالمی طاقتوں کے مفادات کے تناظر میں مسلسل جاری ہے، اور ماہرین کے مطابق جب تک عالمی سطح پر یکساں اصولوں کا نفاذ نہیں ہوتا، اس نوعیت کے اختلافات برقرار رہنے کا امکان ہے۔








