ایرانی رہنما علی لاریجانی کی شہادت ، حکام کی تصدیق

ایران نے سینئر سیاستدان اور قومی سلامتی سے وابستہ اہم رہنما علی لاریجانی کی شہادت کی تصدیق کر دی ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق وہ ایک حملے میں جاں بحق ہوئے، جسے ایرانی حکام نے انتہائی سنگین واقعہ قرار دیا ہے۔
ایرانی قومی سلامتی کونسل کے بیان میں کہا گیا کہ یہ واقعہ ایک محفوظ مقام پر پیش آیا، جہاں لاریجانی اپنے بیٹے اور سیکیورٹی عملے کے ہمراہ موجود تھے۔ حملے کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک ہوئے۔ اس سے قبل اسرائیل کی جانب سے انہیں نشانہ بنانے کا دعویٰ سامنے آیا تھا، تاہم مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
لاریجانی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے جاری ایک پیغام میں مرحوم کے لیے دعا اور تعزیت کا اظہار کیا گیا، جبکہ ایرانی حکام نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے علاقائی سلامتی کیلیے خطرہ قراردیا ہے۔
مسعود پزشکیان نے اپنے بیان میں کہا کہ علی لاریجانی نے ملک کی سیاست، پالیسی سازی اور قومی اداروں میں طویل عرصے تک اہم خدمات انجام دیں۔ انہوں نے اس واقعے پر سخت ردعمل کا عندیہ بھی دیا۔
علی لاریجانی ایران کی نمایاں سیاسی شخصیات میں شمار ہوتے تھے۔ وہ طویل عرصے تک پارلیمنٹ کے اسپیکر رہے اور ملک کی خارجہ پالیسی و جوہری مذاکرات میں بھی کلیدی کردار ادا کرتے رہے۔ ان کا تعلق ایک بااثر مذہبی و سیاسی خاندان سے تھا، اور وہ ایران کی سیاست میں ایک اہم آواز سمجھے جاتے تھے۔








