
ذیابیطس صرف خون میں شوگر کی زیادتی نہیں بلکہ ایک خاموش بیماری ہے جو جسم کے مختلف حصوں پر اثر ڈال سکتی ہے، خاص طور پر پیروں پر۔ بہت سے لوگ پیروں میں چھوٹے چھوٹے مسائل کو عمر یا تھکن کی وجہ سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں، لیکن یہ مستقبل میں سنگین پیچیدگیوں کا سبب بن سکتے ہیں۔
پیروں میں ظاہر ہونے والی چند علامات جو ذیابیطس کی جانب اشارہ کر سکتی ہیں:
جھنجھناہٹ یا سوئیاں چبھنا: پیروں میں مستقل جھنجھناہٹ یا چبھنے کا احساس، جسے طبی زبان میں ’پیریفرل نیوروپیتھی‘ کہتے ہیں، ہائی بلڈ شوگر کی وجہ سے اعصاب کو نقصان پہنچنے کی نشانی ہو سکتی ہے۔
پنڈلوں میں جلن: رات کے وقت پنڈلوں میں جلن محسوس ہونا، جو اعصاب کی متاثر ہونے کی وجہ سے ہو سکتا ہے۔
پیر کے بالوں کا کم ہونا: پیروں کے بالوں کا گرنا یا کم ہونا خراب خون کی گردش کی علامت ہے، جس سے بالوں کی جڑوں تک غذائیت اور آکسیجن نہیں پہنچ پاتی۔
اچانک اور شدید درد: رات کے وقت اچانک پیر میں درد ہونا خون کے بہاؤ یا اعصاب میں مسئلے کی نشانی ہو سکتا ہے۔
جلد کے رنگ میں تبدیلی: ٹخنوں یا پنڈلوں کی جلد گہری یا دھبوں والی نظر آنا شوگر کی وجہ سے چھوٹی شریانوں کے متاثر ہونے کی علامت ہو سکتی ہے۔
جلد میں کھنچاؤ اور غیر معمولی چمک: ضرورت سے زیادہ ٹائٹ اور چمکدار جلد جسم میں رطوبت کے رکنے اور پیروں میں خون کے بہاؤ کے مسئلے کی علامت ہو سکتی ہے۔
ٹانگوں کے درجہ حرارت میں اتار چڑھاؤ: پیر کا اکثر زیادہ ٹھنڈا یا گرم ہونا خون کی نالیوں کے متاثر ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے۔
اگر یہ علامات ظاہر ہوں تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری ہے اور ذیابیطس کی جانچ کرانا ضروری ہے، تاکہ پیچیدگیوں سے بچا جا سکے۔









