آپریشن غضب للحق جاری، سرحدی کشیدگی میں اضافہ

0
49
آپریشن غضب للحق جاری، سرحدی کشیدگی میں اضافہ

پاک افغان سرحد پر حالیہ کشیدگی کے بعد پاکستان کی مسلح افواج کی جانب سے شروع کیا گیا آپریشن ’’غضب للحق‘‘ تاحال جاری ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ کارروائیاں افغان طالبان کی مبینہ بلا اشتعال جارحیت کے جواب میں کی جا رہی ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ 28 فروری 2026 کو دن کی روشنی میں پاکستانی فوجی جوانوں کی افغانستان کی حدود میں پیش قدمی کی ویڈیوز منظر عام پر آئیں۔ بتایا گیا ہے کہ شمالی وزیرستان سے ملحقہ سرحدی باڑ عبور کرنے کے بعد پاکستانی فورسز نے افغان طالبان کی ایک مرکز پوسٹ کی جانب پیش قدمی کی، جہاں جھڑپوں کے بعد کنٹرول حاصل کر لیا گیا۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران متعدد کمپاؤنڈز کو کلیئر کیا گیا اور متعلقہ تنصیبات سے مخالف فریق کے جھنڈے ہٹا دیے گئے۔ حکام کا کہنا ہے کہ آپریشن اپنے اہداف کے حصول تک جاری رہے گا۔
اطلاعات کے مطابق جمعرات کی رات شروع ہونے والی کشیدگی کے بعد مختلف سرحدی مقامات پر جوابی کارروائیاں کی گئیں۔ بعض اطلاعات میں افغانستان کے مختلف شہروں کے قریب عسکری تنصیبات کو نشانہ بنانے اور متعدد چیک پوسٹوں کو تباہ کرنے کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے، تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں آپریشن کی تفصیلات شیئر کرتے ہوئے کہا کہ کارروائیوں میں بڑی تعداد میں افغان اہلکار ہلاک اور زخمی ہوئے، جبکہ درجنوں چیک پوسٹوں اور فوجی سازوسامان کو نقصان پہنچا ہے۔ ان اعداد و شمار کی بھی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔
سرحدی صورتحال کے باعث خطے میں کشیدگی برقرار ہے، جبکہ دونوں ممالک کی جانب سے سرکاری سطح پر مزید بیانات اور ممکنہ سفارتی اقدامات کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

Leave a reply