مصنوعی ذہانت کی چیٹس اب عدالتی شواہد میں شامل ہونے لگی ہیں

0
11
مصنوعی ذہانت کی چیٹس اب عدالتی شواہد میں شامل ہونے لگی ہیں

دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کے استعمال میں اضافے کے ساتھ قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی اب چیٹ بوٹس جیسے پلیٹ فارمز سے حاصل ہونے والی معلومات کو تفتیش میں استعمال کرنے لگے ہیں۔ بعض حالیہ مقدمات میں ان چیٹس کو بطور ثبوت عدالتوں میں پیش کیا گیا ہے، جس نے ڈیجیٹل پرائیویسی کے بارے میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکہ کی ریاست فلوریڈا میں ایک فوجداری کیس کے دوران ملزم کی جانب سے چیٹ جی پی ٹی پر کی گئی گفتگو کو عدالت میں بطور ثبوت شامل کیا گیا۔ دستاویزات کے مطابق ملزم نے ایسے سوالات کیے جن میں کسی جرم کے ممکنہ نتائج اور اس سے بچنے کے طریقوں کے بارے میں پوچھا گیا تھا۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی چیٹ ہسٹری تفتیش میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے کیونکہ یہ کسی شخص کی سوچ اور ممکنہ ارادوں کی جھلک دکھاتی ہے۔ ان کے مطابق بہت سے صارفین یہ سمجھ کر حساس سوالات پوچھ لیتے ہیں کہ یہ گفتگو نجی رہے گی، حالانکہ ایسا ہمیشہ ضروری نہیں ہوتا۔
یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ اے آئی چیٹس عدالت میں پیش کی گئی ہوں۔ اس سے قبل بھی مختلف ممالک میں جرائم اور دیگر مقدمات میں ڈیجیٹل گفتگو کو بطور شواہد استعمال کیا جا چکا ہے۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اے آئی پلیٹ فارمز پر ہونے والی گفتگو کو بعض اوقات اسی طرح دیکھا جاتا ہے جیسے سرچ انجن ہسٹری یا فون ریکارڈز کو دیکھا جاتا ہے، کیونکہ یہ کسی فرد کے رویے اور ذہنی رجحان کو ظاہر کر سکتی ہے۔
اوپن اے آئی کے سربراہ نے بھی اس مسئلے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ لوگ چیٹ بوٹس پر ذاتی نوعیت کی باتیں شیئر کرتے ہیں، لیکن ان معلومات کو وہ قانونی تحفظ حاصل نہیں ہوتا جو ڈاکٹروں یا وکیلوں کے ساتھ گفتگو کو حاصل ہوتا ہے۔ ان کے مطابق قانونی تقاضوں کے تحت بعض صورتوں میں یہ ڈیٹا اداروں کو فراہم بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔
دوسری جانب تفتیشی ادارے نہ صرف صارف کے سوالات بلکہ چیٹ بوٹ کے جوابات کا بھی جائزہ لینے لگے ہیں۔ کچھ معاملات میں کمپنیوں کے خلاف تحقیقات بھی شروع کی گئی ہیں کہ آیا ان سسٹمز نے کسی ممکنہ مجرمانہ عمل میں غیر ارادی طور پر مدد فراہم کی یا نہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ زیادہ تر افراد عام اور محفوظ استعمال کرتے ہیں، تاہم صارفین کو چاہیے کہ وہ مصنوعی ذہانت کے ساتھ گفتگو میں احتیاط برتیں کیونکہ یہ معلومات مستقبل میں قانونی کارروائی کا حصہ بن سکتی ہیں۔
قانونی ماہرین کے مطابق موجودہ قوانین تیزی سے بدلتی ہوئی ٹیکنالوجی کے مطابق مکمل طور پر تیار نہیں، اس لیے مستقبل میں اس حوالے سے واضح ضوابط بنانے کی ضرورت بڑھتی جا رہی ہے۔

Leave a reply