
عمران خان کو آنکھ کے علاج کے سلسلے میں فالو اَپ کے لیے (پمز) منتقل کیا گیا جہاں انہیں اینٹی وی ای جی ایف انجکشن کی دوسری خوراک دی گئی۔ انہیں اڈیالہ جیل سے سخت سیکیورٹی میں اسپتال لایا گیا اور طبی عمل مکمل ہونے کے بعد دوبارہ جیل منتقل کر دیا گیا۔
اسپتال انتظامیہ کے مطابق یہ منتقلی پہلے سے طے شدہ طبی شیڈول کے تحت کی گئی۔ بیان میں کہا گیا کہ ماہر ڈاکٹروں کے بورڈ نے مکمل طبی معائنے کے بعد انٹراوٹرئیل اینٹی وی ای جی ایف انجکشن آپریشن تھیٹر میں طے شدہ طبی اصولوں کے مطابق لگایا۔ طریقہ کار ڈے کیئر سرجری کے طور پر مکمل کیا گیا اور مریض کو اسی روز ڈسچارج کر دیا گیا۔
طبی ٹیم کا کہنا ہے کہ علاج کے دوران باقاعدہ رضامندی حاصل کی گئی اور انجکشن ماہر امراض چشم اور ویٹریوریٹینل سرجنز کی نگرانی میں دیا گیا۔ اسپتال حکام کے مطابق مریض کی حالت مستحکم ہے اور کسی ہنگامی صورتحال کی اطلاع نہیں ملی۔ آئندہ بھی طبی ضرورت کے مطابق فالو اَپ جاری رکھا جائے گا۔
یاد رہے کہ اس سے قبل بھی 24 اور 25 جنوری کو آنکھ کے معائنے اور علاج کے لیے اسپتال لایا گیا تھا۔ ڈاکٹروں نے مجموعی طور پر تین انجکشن تجویز کیے تھے، جن میں سے دوسری خوراک دی جا چکی ہے جبکہ تیسرا انجکشن آئندہ مقررہ تاریخ پر لگائے جانے کا امکان ہے۔
گوہر علی خان نے بھی آنکھ کے فالو اَپ کی تکمیل کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ طبی معائنے کے بعد انہیں منتقلی سے آگاہ کیا گیا تھا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ آئندہ معائنہ ذاتی معالجین کی موجودگی میں کیا جائے تاکہ شفافیت برقرار رہے۔ پارٹی کی جانب سے مزید علاج کے لیے شفا انٹرنیشنل ہاسپٹل منتقل کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔
دوسری جانب، سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ کے مطابق عمران خان کو سنٹرل ریٹینل وین اوکلوژن نامی آنکھ کی بیماری تشخیص ہوئی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ وہ دائیں آنکھ کی بینائی میں نمایاں کمی کی شکایت کر چکے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ بیماری عموماً بلند فشار خون، شوگر، کولیسٹرول اور دل کے امراض جیسے عوامل سے منسلک ہو سکتی ہے۔









