لیبیا: معمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام قذافی قتل

0
63
لیبیا: معمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام قذافی قتل

لیبیا کے سابق رہنما معمر قذافی کے بیٹے اور اہم سیاسی شخصیت سیف الاسلام قذافی کے قتل کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ان کی موت کی تصدیق ان کے وکیل خالد الزیدی اور سیاسی مشیر عبداللہ عثمان نے منگل کے روز سوشل میڈیا پر علیحدہ علیحدہ بیانات کے ذریعے کی، تاہم واقعے کی مکمل تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آ سکیں۔
لیبیائی میڈیا رپورٹس کے مطابق عبداللہ عثمان کا کہنا ہے کہ سیف الاسلام قذافی کو مسلح افراد نے ان کی رہائش گاہ پر حملہ کر کے قتل کیا۔ یہ واقعہ طرابلس سے تقریباً 136 کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع قصبے زنتان میں پیش آیا، جہاں وہ گزشتہ کئی برسوں سے مقیم تھے۔
بعد میں قذافی کی سیاسی ٹیم کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ چار نقاب پوش حملہ آوروں نے ان کے گھر میں داخل ہو کر انہیں ہلاک کیا۔ بیان کے مطابق سیف الاسلام نے مزاحمت کی، جس کے دوران حملہ آوروں نے گھر میں نصب سیکیورٹی کیمرے ناکارہ بنا دیے تاکہ شواہد مٹائے جا سکیں۔
واقعے کے بعد لیبیا کے دارالحکومت طرابلس میں قائم ہائی اسٹیٹ کونسل کے سابق سربراہ خالد المشری نے قتل کی فوری، آزاد اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
سیف الاسلام قذافی نے کبھی باضابطہ سرکاری عہدہ نہیں سنبھالا، تاہم سن 2000 سے 2011 تک وہ اپنے والد کے قریبی ساتھی اور ممکنہ جانشین سمجھے جاتے تھے۔ معمر قذافی کی حکومت کا خاتمہ 2011 میں عوامی بغاوت کے دوران ہوا، جب وہ باغی فورسز کے ہاتھوں مارے گئے۔
جون 1972 میں طرابلس میں پیدا ہونے والے سیف الاسلام قذافی مغربی تعلیم یافتہ تھے اور لندن اسکول آف اکنامکس سے تعلیم حاصل کر چکے تھے۔ وہ طویل عرصے تک اپنے والد کی حکومت کا نسبتاً معتدل اور اصلاح پسند چہرہ تصور کیے جاتے رہے اور لیبیا و مغربی ممالک کے درمیان تعلقات بہتر بنانے کی کوششوں میں سرگرم رہے۔
انہوں نے ان مذاکرات میں بھی کردار ادا کیا جن کے نتیجے میں لیبیا نے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں سے دستبرداری اختیار کی اور لاکربی طیارہ حادثے کے متاثرین کو معاوضہ دینے پر آمادگی ظاہر کی۔
تاہم 2011 کی عوامی بغاوت کے دوران سیف الاسلام نے اپنے والد اور قذافی خاندان کا ساتھ دیا اور حکومت مخالف مظاہرین کے خلاف سخت کارروائیوں میں اہم کردار ادا کیا۔ اس دور میں ان کے بیانات اور اقدامات پر انہیں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔
انہیں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا، جس کے نتیجے میں اقوام متحدہ نے ان پر پابندیاں عائد کیں جبکہ بین الاقوامی فوجداری عدالت نے بھی انہیں انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات میں مطلوب قرار دیا۔
طرابلس پر باغیوں کے قبضے کے بعد وہ ملک سے فرار کی کوشش کے دوران گرفتار ہوئے اور زنتان منتقل کر دیے گئے۔ 2015 میں انہیں غیر حاضری میں سزائے موت سنائی گئی، تاہم 2017 میں عام معافی کے تحت رہائی ملی، جس کے بعد وہ سیکیورٹی خدشات کے باعث منظرِ عام سے دور رہے۔
نومبر 2021 میں سیف الاسلام قذافی نے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کیا، جس پر ملک میں شدید سیاسی ردعمل سامنے آیا۔ بعد ازاں ان کی امیدواری مسترد کر دی گئی اور انتخابی عمل تعطل کا شکار ہو گیا۔
سیف الاسلام قذافی کے قتل نے ایک بار پھر لیبیا میں سیکیورٹی، سیاسی عدم استحکام اور قومی مفاہمت کے مستقبل سے متعلق خدشات کو جنم دے دیا ہے، جبکہ ملک کے اندر اور باہر اس واقعے کی غیر جانبدار تحقیقات کے مطالبات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

Leave a reply