ایم کیو ایم رہنماؤں کی پولیس سیکیورٹی واپس لینے پر سیاسی حلقوں میں تشویش

0
74
ایم کیو ایم رہنماؤں کی پولیس سیکیورٹی واپس لینے پر سیاسی حلقوں میں تشویش

کراچی: متحدہ قومی موومنٹ (پاکستان) کے اہم رہنماؤں اور وزرا کی پولیس سیکیورٹی اچانک واپس لیے جانے کے بعد سیاسی اور حکومتی حلقوں میں تشویش کی فضا پیدا ہوگئی ہے۔ اس فیصلے سے متاثر ہونے والے رہنماؤں میں وفاقی وزیر خالد مقبول صدیقی، ڈاکٹر فاروق ستار، مصطفیٰ کمال، انیس قائم خانی اور علی خورشیدی شامل ہیں۔
ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماؤں نے سیکیورٹی واپس لینے کے اقدام پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ انہیں اس فیصلے کی کوئی واضح وجہ نہیں بتائی گئی۔ پارٹی کا موقف ہے کہ یہ فیصلہ بغیر کسی پیشگی اطلاع کے کیا گیا، جس سے رہنماؤں میں سیکیورٹی کے خدشات پیدا ہوئے ہیں۔
پارٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں سانحہ گل پلازہ پر سندھ حکومت پر کی گئی تنقید اس اقدام کی ممکنہ وجہ ہو سکتی ہے، تاہم حکام کی جانب سے ابھی تک کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ پارٹی نے زور دیا ہے کہ اگر سیکیورٹی انتظامات میں کوئی تبدیلی کی گئی ہے تو اس کی وجوہات اور قانونی بنیاد واضح کی جانی چاہیے۔
ایم کیو ایم پاکستان نے اس معاملے پر اپنی پوزیشن عوام کے سامنے رکھنے کے لیے آج شام چار بجے ہنگامی پریس کانفرنس کا اعلان کیا ہے، جس میں سیکیورٹی واپس لینے کے فیصلے، ممکنہ خدشات اور آئندہ کے لائحہ عمل پر بات کی جائے گی۔
دوسری جانب سندھ حکومت کی ترجمان سعدیہ جاوید نے کہا ہے کہ شہر میں پولیس کی تعداد کم ہے، ممکن ہے اس وجہ سے ایم کیو ایم کے رہنماؤں سے سیکیورٹی واپس لی گئی ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ سندھ کے حکومتی ایم پی ایز کے پاس بھی کوئی سیکیورٹی نہیں ہے اور یقیناً اس اقدام کے پیچھے کچھ وجوہات ہوں گی۔

Leave a reply