بند عمارتوں میں آگ: چند لمحوں میں جان لیوا بننے والا خطرہ، ماہرین نے احتیاطی تدابیر بتا دیں

بند عمارتوں میں لگنے والی آگ ایک معمولی واقعہ نہیں بلکہ چند ہی لمحوں میں بڑے جانی نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق زیادہ تر آتش زدگی کے واقعات ناقص برقی وائرنگ، شارٹ سرکٹ، گیس لیکیج یا آتش گیر اشیا کے غیر محفوظ ذخیرے کے باعث پیش آتے ہیں۔ پاکستان میں کئی عمارتوں میں فائر سیفٹی کے مناسب انتظامات اور تربیتی مشقوں کا فقدان ایسے حادثات کو مزید خطرناک بنا دیتا ہے۔
فائر سیفٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ آگ کے دوران سب سے بڑا خطرہ شعلے نہیں بلکہ زہریلا دھواں ہوتا ہے، جو چند منٹوں میں پورے فلور پر پھیل کر سانس لینا مشکل بنا دیتا ہے اور انسان کو بے ہوش کر سکتا ہے۔ ایسے حالات میں گھبراہٹ اکثر غلط فیصلوں کا سبب بنتی ہے، اس لیے آگ لگنے کی صورت میں پرسکون اور منظم ردِعمل انتہائی ضروری ہے۔
آگ کا احساس ہوتے ہی فوری اقدامات آگ کا الارم بجنے یا دھوئیں کی بو محسوس ہوتے ہی قریبی افراد کو فوراً خبردار کیا جائے اور اگر ممکن ہو تو دستی الارم استعمال کیا جائے۔ ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ موبائل فون، بیگ یا دیگر سامان اکٹھا کرنے میں وقت ضائع نہ کیا جائے کیونکہ چند سیکنڈ بھی قیمتی ثابت ہو سکتے ہیں۔
کسی بھی کمرے سے باہر نکلنے سے پہلے دروازے کو ہاتھ کے پچھلے حصے سے چھو کر دیکھنا ضروری ہے۔ اگر دروازہ بہت زیادہ گرم ہو تو اسے کھولنے کے بجائے متبادل راستہ اختیار کیا جائے۔ دھوئیں سے بچاؤ کے لیے منہ اور ناک کو گیلے کپڑے یا رومال سے ڈھانپنا بھی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
محفوظ راستہ اختیار کرنا کیوں ضروری ہے ماہرین کے مطابق دھواں اوپر کی جانب جمع ہوتا ہے، اس لیے جھک کر یا رینگتے ہوئے آگے بڑھنا زیادہ محفوظ ہوتا ہے۔ دیواروں کے ساتھ چلتے ہوئے پہلے سے متعین ایمرجنسی راستوں کی طرف بڑھنے کی کوشش کی جائے۔
آگ کے دوران لفٹ کے استعمال سے سختی سے منع کیا جاتا ہے، کیونکہ بجلی بند ہونے یا لفٹ میں دھواں بھر جانے کا خطرہ ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں سیڑھیوں یا فائر ایگزٹ کا استعمال ہی واحد محفوظ راستہ ہے۔
اگر راستہ بند ہو جائے تو کیا کریں؟ اگر سیڑھیاں یا راہداری آگ یا دھوئیں سے بھر جائیں تو کسی محفوظ کمرے میں داخل ہو کر دروازے کے نیچے اور اطراف گیلے کپڑے رکھ کر دھوئیں کو روکنے کی کوشش کی جائے۔ کھڑکی یا روشن دان کے ذریعے ہوا کی آمد و رفت برقرار رکھی جائے اور باہر کی جانب کپڑا لہرا کر اپنی موجودگی ظاہر کی جائے۔
غیر ضروری طور پر اونچائی سے چھلانگ لگانا انتہائی خطرناک ہو سکتا ہے، اس لیے امدادی ٹیموں کے پہنچنے تک انتظار کرنا زیادہ محفوظ حکمتِ عملی سمجھی جاتی ہے۔
کپڑوں کو آگ لگنے کی صورت میں کیا کریں؟ اگر کسی شخص کے کپڑوں میں آگ لگ جائے تو دوڑنے کے بجائے فوراً رک کر زمین پر لیٹ جانا اور لوٹنا ضروری ہے۔ ماہرین اس طریقے کو ”رکیں، لیٹیں اور لوٹیں“ قرار دیتے ہیں، جس سے آگ بجھانے میں مدد ملتی ہے۔ چہرے کو بازوؤں سے ڈھانپنا بھی حفاظتی اقدام ہے۔
بالکونی اور چھت کا استعمال اگر اندرونی راستے بند ہو جائیں تو بالکونی یا کھڑکی عارضی محفوظ جگہ بن سکتی ہے۔ وہاں سے شور مچانا، روشنی دکھانا یا کپڑا لہرانا امدادی کارروائیوں میں مدد دیتا ہے۔ بعض صورتوں میں چھت تک رسائی بھی نسبتاً محفوظ ہو سکتی ہے، تاہم خطرناک چھلانگ سے ہر صورت گریز کیا جانا چاہیے۔
احتیاط ہی بہترین تحفظ ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ فائر ڈرلز، فائر الارم سسٹم، اسپرنکلرز، فائر ایکسٹنگشر اور واضح ایگزٹ راستے ہر عمارت کے لیے ناگزیر ہیں۔ برقی وائرنگ کی باقاعدہ جانچ، اوور لوڈنگ سے پرہیز اور آتش گیر مواد کا محفوظ ذخیرہ بڑے حادثات سے بچا سکتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ بند عمارت میں آگ کے دوران بروقت اور درست فیصلے قیمتی جانیں بچا سکتے ہیں۔ عوام کو چاہیے کہ آگ سے بچاؤ کے اصول نہ صرف خود سیکھیں بلکہ دوسروں تک بھی پہنچائیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں جانی نقصان کم سے کم ہو سکے۔









