
حالیہ دنوں میں انسٹاگرام کے صارفین اس وقت پریشان ہو گئے جب بڑی تعداد کو بغیر کسی درخواست کے پاس ورڈ ری سیٹ کرنے سے متعلق ای میلز موصول ہوئیں۔ ان اچانک پیغامات کے بعد سوشل میڈیا پر خدشات سامنے آئے کہ شاید صارفین کا ڈیٹا لیک ہو گیا ہے۔
تاہم انسٹاگرام نے ان خدشات کی تردید کرتے ہوئے وضاحت جاری کی ہے۔ میٹا کی ملکیت رکھنے والے اس پلیٹ فارم کے مطابق یہ ای میلز کسی سائبر حملے یا ڈیٹا چوری کا نتیجہ نہیں تھیں بلکہ ایک تکنیکی خرابی کے باعث ایک بیرونی فریق محدود تعداد میں صارفین کے لیے پاس ورڈ ری سیٹ کی درخواست بھیجنے میں کامیاب ہو گیا تھا۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ مسئلے کی نشاندہی کے بعد اسے فوری طور پر حل کر لیا گیا ہے اور تمام صارف اکاؤنٹس محفوظ ہیں۔ انسٹاگرام کے مطابق جن صارفین کو ایسی ای میلز موصول ہوئیں، وہ انہیں نظر انداز کر سکتے ہیں۔
یہ وضاحت ایسے وقت سامنے آئی جب مختلف ممالک کے صارفین نے شکایت کی کہ انہیں بار بار پاس ورڈ تبدیل کرنے کی ہدایات موصول ہو رہی ہیں، حالانکہ انہوں نے خود کوئی درخواست نہیں دی تھی۔
دوسری جانب ایک سائبر سیکیورٹی ادارے نے دعویٰ کیا کہ ممکنہ طور پر لاکھوں انسٹاگرام اکاؤنٹس سے متعلق معلومات آن لائن گردش کر رہی ہیں، جن میں صارف نام، ای میل پتے اور فون نمبرز شامل ہو سکتے ہیں۔ ادارے کے مطابق یہ معلومات ڈارک ویب پر فروخت کے لیے پیش کی جا رہی ہیں۔
انسٹاگرام نے ان دعوؤں کو بھی مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس کے سسٹمز میں کسی قسم کی سیکیورٹی خامی موجود نہیں اور صارفین کا ڈیٹا محفوظ ہے۔ کمپنی نے صارفین کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ بلا خوف پلیٹ فارم استعمال کر سکتے ہیں۔
اس واقعے کے بعد کئی صارفین نے احتیاطی طور پر اپنے پاس ورڈز تبدیل کیے، جبکہ بعض نے سوشل میڈیا پر اپنے تجربات بھی شیئر کیے۔ یہ صورتحال ایک بار پھر آن لائن سیکیورٹی اور ذاتی معلومات کے تحفظ کی اہمیت کو نمایاں کرتی ہے۔








