خسارے میں چلنے والے اداروں کی نجکاری حکومت کی اولین ترجیح ہے، وزیراعظم شہباز شریف

0
80
خسارے میں چلنے والے اداروں کی نجکاری حکومت کی اولین ترجیح ہے، وزیراعظم شہباز شریف

وزیراعظم شہباز شریف نے خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں کی نجکاری کو حکومت کی اہم ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ قومی ایئرلائن کے 75 فیصد حصص کی نجکاری اس عمل کی جانب پہلا عملی قدم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نجکاری کے ذریعے معیشت کو مستحکم بنانے اور سرکاری وسائل پر بوجھ کم کرنے میں مدد ملے گی۔
منگل کے روز وزیراعظم کی زیر صدارت نجکاری کمیشن سے متعلق اجلاس منعقد ہوا جس میں متعلقہ وفاقی وزرا، نجکاری کمیشن کی قیادت اور اعلیٰ سرکاری افسران شریک ہوئے۔ اجلاس میں نجکاری کے جاری اور مجوزہ منصوبوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیراعظم نے نجکاری کمیشن میں ادارہ جاتی اصلاحات کے عمل کو تیز کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ کمیشن میں نجی شعبے سے تجربہ کار اور پیشہ ور افراد کو شفاف طریقے سے شامل کیا جائے۔ انہوں نے کمیشن کے نظام کو ڈیجیٹل بنیادوں پر استوار کرنے اور تمام نجکاری منصوبوں کا بین الاقوامی معیار کے مطابق تھرڈ پارٹی آڈٹ کروانے پر بھی زور دیا۔
شہباز شریف نے نجکاری کمیشن کے پبلک ریلیشنز اور مارکیٹنگ کے شعبوں کو مؤثر بنانے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ شفاف معلومات کی فراہمی سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے گا۔
اجلاس میں بریفنگ دی گئی کہ نجکاری کمیشن میں فنانس، قانون، ہیومن ریسورس، آئی ٹی اور میڈیا مینجمنٹ کے شعبوں میں ماہر مشیر بھرتی کیے جائیں گے، جبکہ اسٹریٹیجی، پالیسی، ٹرانزیکشن اور پاور سیکٹر کے لیے بھی کنسلٹنٹس تعینات ہوں گے۔ اصلاحات کا مقصد مضبوط گورننس، ادارہ جاتی صلاحیت میں اضافہ اور تمام اسٹیک ہولڈرز سے شفاف روابط قائم کرنا ہے۔
حکام نے بتایا کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری دو مرحلوں میں کی جائے گی۔ پہلے مرحلے میں اسلام آباد، گوجرانوالہ اور فیصل آباد کی بجلی کمپنیوں کو نجکاری فہرست میں شامل کیا گیا ہے جبکہ دوسرے مرحلے میں حیدرآباد اور سکھر کی بجلی کمپنیوں کی نجکاری متوقع ہے۔
دوسری جانب وزیراعظم نے آئندہ پانچ برسوں میں زرعی برآمدات میں نمایاں اضافے کے لیے جامع حکمتِ عملی تیار کرنے کی ہدایت بھی کی۔ زرعی برآمدات سے متعلق اجلاس میں نجی شعبے کے ماہرین نے مختلف فصلوں، فی ایکڑ پیداوار، باغبانی اور زرعی مصنوعات کی برآمدات پر تفصیلی بریفنگ دی۔
وزیراعظم نے کہا کہ زراعت ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے اور اس شعبے میں اصلاحات حکومت کی اولین ترجیح ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کسانوں کو معیاری بیج، کھاد اور زرعی ادویات کی فراہمی کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ پیداوار میں اضافہ ہو سکے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ زرعی تحقیق میں سرمایہ کاری کے ذریعے جدید ٹیکنالوجی کو فروغ دیا جا رہا ہے اور برآمدات کے قابل مصنوعات کی تیاری کے لیے پالیسی سطح پر اصلاحات متعارف کروائی جا رہی ہیں۔ وزیراعظم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ موجودہ وسائل کو مؤثر انداز میں استعمال کرتے ہوئے زرعی شعبے کی ترقی اور برآمدات میں اضافہ یقینی بنایا جائے گا۔

Leave a reply