
پشاور: گزشتہ بیس برس کے دوران کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ساتھ کیے گئے متعدد امن معاہدے نتیجہ خیز ثابت نہ ہو سکے، اس کے باوجود پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) ایک بار پھر مذاکرات کے حق میں مؤقف اختیار کیے ہوئے ہے۔
صوبائی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے واضح کیا کہ صوبے میں کسی نئے فوجی آپریشن کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ طاقت کا استعمال مسائل کا مستقل حل نہیں اور امن صرف بند کمروں میں کیے گئے فیصلوں سے ممکن نہیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ قبائلی عمائدین پر مشتمل امن جرگہ بھی کسی آپریشن کے خلاف اپنی رائے دے چکا ہے۔ ان کے مطابق اگرچہ بعض حلقوں کی جانب سے آپریشن کی باتیں کی جا رہی ہیں، لیکن خیبرپختونخوا پر کسی بھی فیصلے کو زبردستی نافذ نہیں کیا جا سکتا۔
پاکستان ماضی میں ٹی ٹی پی اور اس سے وابستہ مختلف مسلح گروہوں کے ساتھ کئی بار مذاکرات اور معاہدے کر چکا ہے، تاہم یہ کوششیں دیرپا امن قائم کرنے میں کامیاب نہ ہو سکیں۔ بعد ازاں ریاست کو مختلف علاقوں میں وسیع پیمانے پر سیکیورٹی کارروائیاں کرنا پڑیں۔
گزشتہ برسوں میں نیک محمد، بیت اللہ محسود، حافظ گل بہادر، صوفی محمد، مولانا فضل اللہ، فقیر محمد اور منگل باغ جیسے شدت پسند رہنماؤں کے ساتھ امن معاہدے کیے گئے، لیکن یہ معاہدے چند ماہ سے زیادہ قائم نہ رہ سکے۔
اپریل 2004 میں جنوبی وزیرستان کے علاقے شکئی میں نیک محمد وزیر کے ساتھ پہلا اہم معاہدہ طے پایا، جو ایک فوجی آپریشن کے بعد عمل میں آیا۔ اس معاہدے کے تحت حکومت نے قیدیوں کی رہائی اور نقصانات کے ازالے پر آمادگی ظاہر کی، جبکہ نیک محمد نے غیر ملکی جنگجوؤں سے لاتعلقی اور سرحد پار حملے روکنے کی یقین دہانی کرائی تھی، تاہم یہ معاہدہ بھی جلد ہی غیر مؤثر ہو گیا۔








