سانحہ اے پی ایس: معصوم مسکراہٹیں جو ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئیں

0
135
سانحہ اے پی ایس: معصوم مسکراہٹیں جو ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئیں

16 دسمبر پاکستان کی تاریخ کا ایک ایسا دن ہے جو آج بھی قوم کے دلوں میں گہرا دکھ چھوڑ جاتا ہے۔ 2014 میں اسی دن پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر دہشت گرد حملے میں 132 معصوم طلبہ سمیت اساتذہ اور اسکول عملے کے افراد جان سے گئے تھے، جس میں مجموعی طور پر 147 قیمتی جانوں کا نقصان ہوا۔

سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے حملے میں ملوث دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کیا، جس کے دوران کئی دہشت گرد ہلاک اور گرفتار کیے گئے۔ بعد ازاں گرفتار ملزمان کو عدالتوں کے ذریعے سزائیں سنائی گئیں۔

اس افسوسناک واقعے نے نہ صرف پشاور بلکہ پورے ملک کو سوگ میں مبتلا کر دیا تھا، اور آج بھی اس سانحے کی یاد قوم کے دلوں کو رنجیدہ کر دیتی ہے۔

سانحہ آرمی پبلک اسکول کی برسی کے موقع پر ملک بھر میں دعائیہ اجتماعات اور تقریبات کا انعقاد کیا گیا۔ پشاور میں شہداء کے والدین اور اہلِ خانہ نے اپنے بچوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے ریلی نکالی، جس میں شرکاء نے شہداء کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں۔

ریلی ڈیفنس کے علاقے سے شروع ہو کر آرمی پبلک اسکول تک پہنچی، جہاں شرکاء نے امن، انصاف اور دہشت گردی کے خلاف یکجہتی کا اظہار کیا۔ والدین نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 16 دسمبر ایک دن نہیں بلکہ ایک ایسا زخم ہے جو آج بھی تازہ ہے اور قوم کو دہشت گردی کے خلاف متحد رہنے کا پیغام دیتا ہے۔

سانحہ کی برسی پر صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے بھی اپنے الگ الگ پیغامات میں شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ صدر مملکت نے کہا کہ قوم اے پی ایس کے بچوں کی قربانی کو کبھی فراموش نہیں کرے گی اور دہشت گردی کے خلاف ریاست کا مؤقف واضح اور غیر متزلزل ہے۔

وزیراعظم نے اپنے بیان میں کہا کہ معصوم بچوں اور اساتذہ کی قربانی ہمیشہ یاد رکھی جائے گی اور یہ سانحہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اجتماعی جدوجہد کی یاد دہانی ہے۔

ادھر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے بھی برسی کے موقع پر پیغام جاری کرتے ہوئے شہداء اور ان کے خاندانوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ اے پی ایس کے شہداء کی قربانیاں بہادری کی علامت ہیں اور پاکستان دہشت گردی کے خلاف اپنے عزم پر قائم ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ شہداء کی قربانیوں کو کبھی رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا اور ان کے خاندانوں کو ہمیشہ عزت اور احترام کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔

Leave a reply