
سردیوں کے موسم میں لوگ زیادہ تر گرم کمرے اور موٹے کمبلوں میں دبک کر سونا پسند کرتے ہیں۔ بعض افراد سردی سے بچنے کے لیے اپنے چہرے پر کمبل یا لحاف ڈال لیتے ہیں، جو بظاہر آرام دہ تو لگتا ہے، لیکن صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق جب آپ سوتے وقت اپنا چہرہ کمبل میں ڈھانپتے ہیں تو سانس لینے میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے، جس سے آکسیجن کی مقدار کم ہو جاتی ہے اور نیند کا معیار متاثر ہو سکتا ہے۔
جسمانی اور ذہنی مسائل
چہرہ ڈھانپنے سے ناک اور منہ کے ارد گرد ہوا کا ایک محدود ماحول بن جاتا ہے، جس میں نکالی گئی کاربن ڈائی آکسائیڈ پھنس جاتی ہے اور تازہ آکسیجن کی رسائی محدود ہو جاتی ہے۔ اس سے تھکن، سر درد، الجھن اور دیگر جسمانی علامات پیدا ہو سکتی ہیں۔ طویل مدت میں یہ عادت ذہنی مسائل جیسے الزائمر اور ڈیمینشیا کے خطرے کو بھی بڑھا سکتی ہے۔
نیند کے دوران سانس رکنا
کمبل یا چادر سے چہرہ ڈھانپنے سے نیند کے دوران سانس رکنے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ بعض افراد اچانک جاگ سکتے ہیں، اور یہ مسئلہ ان لوگوں کے لیے زیادہ سنگین ہو سکتا ہے جو پہلے ہی نیند میں سانس رکنے کی بیماری کا شکار ہیں۔
آکسیجن کی کمی اور دل کے مسائل
مسلسل یہ عادت اپنانے سے جسم میں آکسیجن کی کمی ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں سانس پھولنا اور دل کی دھڑکن تیز ہو سکتی ہے۔ یہ صورت حال خاص طور پر ان افراد کے لیے خطرناک ہے جو دل کی بیماری یا دیگر صحت کے مسائل میں مبتلا ہیں۔ شدید حالات میں دل کا دورہ بھی ممکن ہے۔
ماہرین کے مشورے
ماہرین کہتے ہیں کہ سردیوں میں اگر سردی زیادہ محسوس ہو رہی ہو تو کمبل یا رضائی سے صرف سر کو ڈھانپنے کی بجائے ناک اور منہ کو باہر رکھنا چاہیے۔ اس سے جسم میں آکسیجن کی کمی نہیں ہوگی اور سردی سے بھی بچاؤ ممکن ہے۔
اگرچہ یہ عادت فوری طور پر آرام دہ محسوس ہوتی ہے، لیکن طویل مدت میں یہ صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہے۔ اس لیے ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ نیند کے دوران چہرے کو کمبل سے ڈھانپنے کی عادت ترک کی جائے تاکہ صحت برقرار رہے۔









