
لاہور میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں پر جرمانوں میں بڑی اضافے کی تجویز منظور کر لی گئی ہے۔ اب معمولی جرمانے جو پہلے 200 سے 750 روپے تک تھے، بڑھا کر 2,000 سے 20,000 روپے تک کر دیے گئے ہیں، جس پر شہریوں نے شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔
اوور اسپیڈنگ پر جرمانے:
موٹرسائیکل: 2,000 روپے
رکشہ: 3,000 روپے
کار یا جیپ: 5,000 روپے
بس اور بڑی گاڑیاں: 15,000 سے 20,000 روپے
سگنل کی خلاف ورزی پر جرمانے:
موٹرسائیکل: 2,000 روپے
رکشہ: 3,000 روپے
کار یا جیپ: 5,000 روپے
لگژری گاڑی: 10,000 روپے
بس یا بڑی گاڑی: 15,000 روپے
اوور لوڈنگ پر جرمانے:
رکشہ: 3,000 روپے
کار یا جیپ: 5,000 روپے
لگژری گاڑی: 10,000 روپے
بس یا بڑی گاڑی: 15,000 روپے
لائٹس نہ ہونے کی صورت میں جرمانے:
موٹرسائیکل: 2,000 روپے
رکشہ: 3,000 روپے
کار یا جیپ: 10,000 روپے
بس یا بڑی گاڑی: 15,000 روپے
غلط سمت ڈرائیونگ اور بغیر لائسنس ڈرائیونگ پر جرمانے:
موٹرسائیکل: 2,000 روپے
رکشہ: 3,000 روپے
کار یا جیپ: 5,000 روپے
لگژری گاڑی: 10,000 روپے
بس یا بڑی گاڑی: 15,000 روپے
پریشر یا میوزیکل ہارن کے استعمال پر جرمانے:
موٹرسائیکل، رکشہ اور کار: 2,000 روپے
لگژری گاڑی: 5,000 روپے
بس یا بڑی گاڑیاں: 10,000 روپے
شہریوں کا کہنا ہے کہ اتنے بھاری جرمانے عام افراد کے لیے ناقابل برداشت ہیں۔ ان کا یہ بھی موقف ہے کہ حکومت کو پہلے سڑکوں کی حالت بہتر بنانے، ٹریفک قوانین کے بارے میں آگاہی مہم چلانے اور بنیادی انفراسٹرکچر درست کرنے پر توجہ دینی چاہیے، پھر جرمانوں میں اضافہ کرنا چاہیے۔
شہر میں ٹریفک پولیس نے کہا ہے کہ نئے جرمانوں کا مقصد شہریوں میں احتیاط اور نظم و ضبط پیدا کرنا ہے، تاکہ حادثات اور ٹریفک کی خلاف ورزیوں کو کم کیا جا سکے۔









