فوجی اہلکاروں کی تنخواہوں کے لیے 130 ملین ڈالر عطیہ کرنے والے ارب پتی کی شناخت سامنے آگئی

واشنگٹن: امریکہ میں جاری وفاقی شٹ ڈاؤن کے دوران فوجی اہلکاروں کی تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے عطیہ کیے گئے 130 ملین ڈالر کے پیچھے نامعلوم ارب پتی شخص کی شناخت ظاہر ہو گئی ہے۔ مختلف امریکی ذرائع کے مطابق یہ رقم ٹِموتھی میلن نے دی، جو مشہور میلن خاندان کے وارث اور سابق امریکی وزیر خزانہ اینڈریو ڈبلیو میلن کے پوتے ہیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس رقم کے عطیہ ہونے کا اعلان تو کیا، لیکن عطیہ دینے والے کا نام ابتدائی طور پر ظاہر نہیں کیا۔ بعد میں امریکی میڈیا نے تصدیق کی کہ یہ خوش فہمی ٹِموتھی میلن ہی ہیں۔
ٹِموتھی میلن کون ہیں؟
ٹِموتھی میلن ایک معروف امریکی کاروباری خاندان سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کی دولت 2024 میں تقریباً 14.2 ارب ڈالر تخمینہ کی گئی۔ وہ صدر ٹرمپ کے قریبی دوست اور سیاسی عطیہ دہندگان میں شامل ہیں۔ 2024 کے صدارتی انتخابات میں ٹرمپ کی حمایت میں بنائے گئے “Super PACs” کو میلن نے تقریباً 50 ملین ڈالر دیے، جو اس سال کی بڑی سیاسی امداد میں سے ایک تھی۔
میلن کے دادا اینڈریو ڈبلیو میلن 1921 سے 1932 تک امریکی وزیر خزانہ رہ چکے ہیں۔ اگرچہ ٹِموتھی نے عام سیاست میں زیادہ حصہ نہیں لیا، مگر وہ ٹرمپ کے سرگرم حامی ہیں۔
ذاتی زندگی اور دیگر سرگرمیاں
ٹِموتھی میلن 80 سال کے ہیں اور ریاست وایومنگ میں رہائش پذیر ہیں۔ وہ عام طور پر میڈیا سے دور رہنا پسند کرتے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، میلن نہ صرف ٹرمپ بلکہ رابرٹ ایف کینیڈی جونیئر کے بھی حامی رہے ہیں اور ان کی اینٹی ویکسین تنظیم “Children’s Health Defense” کو چندہ دیا ہے۔
عطیہ کی قانونی حیثیت
پینٹاگون نے بتایا کہ یہ رقم “جنرل گفٹ ایکسپٹنس اتھارٹی” کےتحت دیگئی ہے اور اسکوصرف فوجی اہلکاروں کی تنخواہوں اورمراعات کی ادائیگی کیلیےاستعمال کیاجائیگا۔ صدرٹرمپ نےوزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کوہدایت کی کہ وفاقی شٹ ڈاؤن کے دوران بھی فوجی تنخواہیں بروقت ادا ہوں۔
یہ بھاری عطیہ ایک نئی بحث کا سبب بن گیا ہے کہ کیا نجی افراد کو قومی دفاع کے حساس شعبے میں اتنی بڑی مالی مدد کرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔ ٹِموتھی میلن کی یہ مالی شراکت امریکی تاریخ میں ایک غیر معمولی مثال کے طور پر دیکھی جا رہی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب حکومت خود مالی مشکلات کا سامنا کر رہی ہے۔









