اسرائیل کو مزید دو یرغمالیوں کی لاشیں موصول، 45 فلسطینیوں کی میتیں واپس کی گئیں

غزہ میں جاری کشیدگی کے دوران انسانی بنیادوں پر ایک پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں حماس نے جنگ بندی معاہدے کے تحت دو اسرائیلی یرغمالیوں کی لاشیں اسرائیلی حکام کے حوالے کر دی ہیں۔ حماس کا کہنا ہے کہ باقی لاشوں کی تلاش کے لیے وقت اور مخصوص آلات کی ضرورت ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ حماس لاشوں کی حوالگی میں تاخیر کر رہی ہے، جس کے جواب میں امدادی سامان کی رسد کو محدود رکھا گیا ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کے مطابق ملنے والی لاشوں کی شناخت زنبر ہیمن اور محمد الأطرش کے طور پر کی گئی ہے۔ اس سے قبل حماس 8 مزید یرغمالیوں کی لاشیں بھی واپس کر چکا ہے، جس کے بعد اسرائیل کو مجموعی طور پر 10 لاشیں موصول ہوئی ہیں۔ تاہم، اسرائیل نے ان میں سے ایک لاش کے یرغمالی ہونے سے انکار کیا ہے۔
ادھر حماس کے عسکری ونگ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ معاہدے پر مکمل عملدرآمد کے لیے سنجیدہ ہے اور تمام وہ لاشیں واپس کر دی گئی ہیں جن تک ان کی رسائی ممکن ہو سکی ہے۔
اسی دوران فلسطینی وزارت صحت نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیل نے بدھ کے روز 45 فلسطینیوں کی لاشیں واپس کی ہیں، جن پر شدید تشدد، گولیوں کے زخم اور ٹینکوں سے کچلے جانے کے آثار پائے گئے ہیں۔ اس سے قبل بھی 45 لاشیں واپس کی جا چکی ہیں، یوں مجموعی طور پر 90 فلسطینی شہداء کی میتیں غزہ کو واپس ملی ہیں۔
مقامی اطلاعات کے مطابق یہ افراد اسرائیلی حملوں کے دوران شہید ہوئے تھے، جنہیں غزہ کے مختلف مردہ خانوں میں رکھا گیا ہے۔








