ہواوے نے نیا مصنوعی ذہانت ماڈل “ڈیپ سیک آرون سیف” متعارف کرا دیا

0
148
ہواوے نے نیا مصنوعی ذہانت ماڈل "ڈیپ سیک آرون سیف" متعارف کرا دیا

چین کی مشہور ٹیکنالوجی کمپنی ہواوے نے زیجیانگ یونیورسٹی کے تعاون سے ایک نیا مصنوعی ذہانت ماڈل تیار کیا ہے جس کا نام ڈیپ سیک آرون سیف ہے۔ یہ ماڈل خاص طور پر اس مقصد کے لیے بنایا گیا ہے کہ وہ حساس یا سیاسی نوعیت کے موضوعات پر بات چیت سے گریز کرے۔

چین میں تمام عوامی مصنوعی ذہانت نظاموں کے لیے یہ شرط رکھی گئی ہے کہ وہ قومی اقدار، سماجی اصولوں اور حکومتی پالیسیوں کے دائرے میں رہ کر کام کریں۔ ہواوے کا نیا ماڈل انہی اصولوں کی پاسداری کرتا ہے اور اسے ایک ہزار سے زائد “ہواوے چپ” کے ذریعے تربیت دی گئی ہے، تاکہ یہ حکومتی ضوابط کے مطابق موضوعات پر خودکار نگرانی کر سکے۔

ہواوے کا دعویٰ ہے کہ یہ ماڈل عام گفتگو کے دوران حساس سیاسی سوالات سے بچنے میں تقریباً سو فیصد کامیابی حاصل کرتا ہے، اور اس کے نتیجے میں اس کی رفتار یا کارکردگی میں صرف ایک فیصد کی معمولی کمی آئی ہے۔

تاہم تحقیق سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ اگر کوئی صارف چالاکی سے سوال کرے، جیسے کہ کردار نگاری یا بالواسطہ انداز میں سوالات پوچھے، تو ماڈل کی کامیابی کی شرح کم ہو کر چالیس فیصد تک رہ جاتی ہے۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے ماڈلز میں مکمل تحفظ فراہم کرنا اب بھی ایک مشکل کام ہے۔

یہ نئی پیش رفت چین میں مصنوعی ذہانت کے نظاموں پر سخت نگرانی کے جاری عمل کا حصہ ہے۔ وہاں کی حکومت چاہتی ہے کہ تمام ٹیکنالوجی قومی نظریات، سیاسی استحکام اور سماجی ہم آہنگی کو مدنظر رکھتے ہوئے استعمال کی جائے۔

عالمی سطح پر بھی کئی ممالک اسی رجحان کی پیروی کر رہے ہیں۔ مثال کے طور پر سعودی عرب میں ایک عربی گفتگو کرنے والا چیٹ بوٹ تیار کیا گیا ہے جو نہ صرف زبان میں مہارت رکھتا ہے بلکہ اسلامی ثقافت اور روایات کی عکاسی بھی کرتا ہے۔ امریکہ میں بھی حکومتی اداروں کے ساتھ استعمال ہونے والے مصنوعی ذہانت نظاموں کے لیے یہ شرط رکھی گئی ہے کہ وہ غیر جانب دار اور تعصّب سے پاک ہوں۔

یہ تمام مثالیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ اب مصنوعی ذہانت کو صرف ایک ٹیکنالوجی نہیں سمجھا جاتا، بلکہ اسے ہر ملک کی ثقافتی، سیاسی اور نظریاتی ترجیحات کے مطابق ڈھالا جا رہا ہے۔

Leave a reply