پشاور: پی ٹی آئی خیبرپختونخوا پارلیمانی پارٹی اجلاس میں اختلافات نمایاں

0
6
پشاور: پی ٹی آئی خیبرپختونخوا پارلیمانی پارٹی اجلاس میں اختلافات نمایاں

پشاور میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی خیبرپختونخوا پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کے دوران پارٹی کے اندر اختلافات اور گروپ بندی کے آثار نمایاں دکھائی دیے۔ وزیراعلیٰ ہاؤس میں منعقد ہونے والے اجلاس کی صدارت وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کی، تاہم متعدد اراکین اسمبلی کی عدم شرکت موضوعِ بحث بنی رہی۔

اجلاس میں شرکت کرنے والے اراکین کی تعداد کے حوالے سے مختلف دعوے سامنے آئے۔ بعض پارٹی ذرائع کے مطابق 92 رکنی پارلیمانی پارٹی میں سے 30 سے زائد اراکین اجلاس میں شریک نہیں ہوئے، جبکہ دیگر ذرائع کا کہنا ہے کہ 75 کے قریب اراکین نے شرکت کی اور چند ارکان صوبے سے باہر ہونے کے باعث اجلاس میں شامل نہ ہو سکے۔

سیاسی حلقوں کے مطابق بعض اراکین وزارتیں نہ ملنے پر تحفظات رکھتے ہیں اور ماضی میں بھی اس حوالے سے قیادت کے سامنے اپنے خدشات کا اظہار کر چکے ہیں۔

اجلاس سے قبل پارٹی کے واٹس ایپ گروپ میں ہونے والی گفتگو نے بھی صورتحال کو مزید توجہ کا مرکز بنا دیا۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے ایک پیغام میں دعویٰ کیا کہ بعض عناصر اجلاس کو ناکام بنانے کی کوشش کر رہے ہیں اور پارٹی کے اندر سازشوں کی اطلاعات موجود ہیں۔ انہوں نے اراکین سے اجلاس میں بھرپور شرکت کی اپیل بھی کی۔

اس پیغام پر سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے ردعمل دیتے ہوئے نام لیے بغیر الزامات لگانے پر اعتراض کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی شخص یا گروہ پارٹی قیادت کے خلاف سرگرم ہے تو اس کی واضح نشاندہی کی جانی چاہیے۔ انہوں نے پارٹی رہنماؤں پر بلا ثبوت الزامات لگانے کو مناسب قرار نہیں دیا اور عمران خان سے اپنی وابستگی کا اعادہ کیا۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے شرکاء کی موجودگی کو پارٹی اتحاد کا ثبوت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مختلف افواہوں اور پروپیگنڈے کے باوجود اراکین کی بڑی تعداد میں شرکت اس بات کی علامت ہے کہ پارٹی متحد ہے۔

وزیراعلیٰ نے بتایا کہ اجلاس میں عمران خان کی صحت، سیاسی صورتحال اور آئندہ مالی سال کے بجٹ سمیت اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آنے والا صوبائی بجٹ عوامی فلاح و بہبود کو مدنظر رکھ کر تیار کیا جائے گا۔

Leave a reply