
اسلام آباد: پاکستان کے بینکاری نظام اور اہم قومی تنصیبات کو مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ذریعے ممکنہ سائبر حملوں کا خطرہ لاحق ہونے کے پیش نظر نیشنل سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم (این سی ای آر ٹی) نے متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت کر دی ہے۔
قومی سائبر ادارے کی 5 نومبر کو جاری کردہ ایڈوائزری کے مطابق سائبر جرائم پیشہ گروہ حملوں کے لیے مصنوعی ذہانت، خودکار بوٹس اور جدید ڈیجیٹل ٹولز کا استعمال بڑھا رہے ہیں۔ ان ٹیکنالوجیز کے باعث سائبر حملوں کی رفتار اور پیچیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
ایڈوائزری میں خبردار کیا گیا ہے کہ بینکوں کے کور بینکنگ سسٹمز، آن لائن بینکنگ پلیٹ فارمز، ادائیگیوں کے نیٹ ورکس اور موبائل ایپلی کیشنز کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ ممکنہ خطرات میں ڈیجیٹل خدمات کی بندش، صارفین کی لاگ اِن معلومات کا حصول اور اکاؤنٹس کے مالیاتی ریکارڈ میں غیر مجاز تبدیلی کی کوششیں شامل ہیں۔
این سی ای آر ٹی کے مطابق بینکاری شعبے کے علاوہ بجلی، گیس، پانی، تیل، ٹرانسپورٹ اور صنعتی شعبوں کا بنیادی ڈھانچہ بھی ممکنہ سائبر خطرات کی زد میں آ سکتا ہے۔ بالخصوص غیر محفوظ ریموٹ ایکسس اور صنعتی کنٹرول سسٹمز میں موجود کمزوریاں حملہ آوروں کے لیے راستہ فراہم کر سکتی ہیں۔
ادارے نے سائبر سیکیورٹی ماہرین کو ہدایت کی ہے کہ وہ مشکوک سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھیں۔ مختصر وقت میں لاگ اِن کی متعدد ناکام کوششیں، غیر معمولی مالیاتی لین دین اور بینکنگ ریکارڈ میں درج رقم اور صارفین کو دکھائی دینے والے بیلنس میں فرق ممکنہ خطرے کی علامات ہو سکتی ہیں۔
اسی طرح بجلی گھروں، پاور گرڈز، ریفائنریز اور دیگر صنعتی تنصیبات میں درجہ حرارت، پریشر کنٹرول اور ریموٹ کنکشنز میں اچانک غیر معمولی تبدیلیوں کو بھی سنجیدگی سے لینے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔
ایڈوائزری میں یورپ کے بعض سپر مارکیٹوں میں پیش آنے والے سائبر واقعات کا حوالہ بھی دیا گیا، جہاں حملوں کے نتیجے میں ریفریجریشن سسٹمز متاثر ہوئے تھے۔ تاہم ان واقعات میں مصنوعی ذہانت کے براہِ راست استعمال کی تصدیق نہیں ہوئی۔
این سی ای آر ٹی نے مالیاتی اداروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے ادائیگیوں کے نظام، تھرڈ پارٹی سروسز اور ایپلی کیشن پروگرامنگ انٹرفیس (API) کی سیکیورٹی مزید مضبوط بنائیں۔ اس کے ساتھ ملٹی فیکٹر آتھنٹیکیشن اور خودکار لاگ اِن کی مشکوک کوششوں کو روکنے والے حفاظتی اقدامات بھی فعال کیے جائیں۔
ادارے نے توانائی اور دیگر اہم شعبوں سے وابستہ اداروں کو آئی ٹی اور آپریشنل ٹیکنالوجی (OT) نیٹ ورکس الگ رکھنے، صنعتی آلات کی غیر ضروری انٹرنیٹ رسائی محدود کرنے اور ہنگامی حالات میں خدمات کی بحالی کے لیے مؤثر بیک اپ نظام تیار رکھنے کی ہدایت کی ہے۔
ایڈوائزری میں واضح کیا گیا ہے کہ بدلتے ہوئے سائبر خطرات سے نمٹنے کے لیے اداروں کو اپنے ڈیجیٹل سیکیورٹی انتظامات کا فوری جائزہ لینا اور حفاظتی نظام کو مسلسل بہتر بنانا ہوگا۔









