یورپ میں بم دھماکوں کی دھمکیوں کی نئی لہر، آئرش اور برطانوی میڈیا ادارے بھی نشانے پر

0
9
یورپ میں بم دھماکوں کی دھمکیوں کی نئی لہر، آئرش اور برطانوی میڈیا ادارے بھی نشانے پر

ڈبلن: یورپ میں مسافر طیاروں کو بم سے اڑانے کی دھمکیوں کے بعد اب میڈیا اداروں کو بھی اسی نوعیت کے سیکیورٹی الرٹس موصول ہونے لگے ہیں، جس کے باعث آئرلینڈ اور برطانیہ میں متعدد نشریاتی اداروں کے دفاتر کی سیکیورٹی بڑھا دی گئی۔

اطلاعات کے مطابق آئرلینڈ کے سرکاری نشریاتی ادارے آر ٹی ای سمیت ڈبلن میں قائم مختلف میڈیا گروپس کو جمعے کے روز بم کی دھمکیاں موصول ہوئیں۔ صورتحال کے پیش نظر متعلقہ عمارتوں کو خالی کرا لیا گیا اور سیکیورٹی اداروں نے فوری طور پر سرچ آپریشن شروع کردیا۔

برطانوی میڈیا نیٹ ورک اسکائی نے بھی اپنے ادارے کو سیکیورٹی خطرے سے متعلق اطلاع ملنے کی تصدیق کی ہے۔ اسکائی نیوز کے ایک میزبان نے براہ راست نشریات کے دوران اس پیش رفت کا ذکر کیا، تاہم ادارے نے دھمکی کی تفصیلات عام نہیں کیں۔ انتظامیہ کے مطابق متعلقہ حکام کو آگاہ کردیا گیا ہے اور عملے کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

آئرلینڈ کے نشریاتی ادارے آر ٹی ای کو مقامی وقت کے مطابق صبح تقریباً 9 بجے ایک ای میل موصول ہوئی، جس میں 45 منٹ کے اندر عمارت میں دھماکے کی دھمکی دی گئی تھی۔ اس اطلاع کے بعد ادارے کی نشریات تقریباً ایک گھنٹے کے لیے روک دی گئیں۔

سیکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے عمارتوں کی جانچ پڑتال مکمل ہونے اور کسی مشتبہ مواد کی عدم موجودگی کی تصدیق کے بعد عملے کو واپس آنے کی اجازت دے دی گئی، جبکہ نشریاتی سرگرمیاں بھی بحال ہوگئیں۔

آئرلینڈ کے وزیراعظم مائیکل مارٹن نے واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسی دھمکیوں کا مقصد عوام میں خوف پھیلانا اور معمولات زندگی کو متاثر کرنا ہوسکتا ہے۔ ان کے مطابق حکام ان واقعات کو سنجیدگی سے دیکھ رہے ہیں، تاہم شہریوں کو پرسکون رہنے اور معمولات جاری رکھنے کی ضرورت ہے۔

یہ واقعات یورپ میں گزشتہ چند روز کے دوران سامنے آنے والی بم دھماکوں کی دھمکیوں کے سلسلے کا حصہ ہیں۔ اس دوران مختلف ممالک میں درجنوں پروازیں متاثر ہوئیں، جبکہ بعض طیاروں کو متبادل ہوائی اڈوں کی جانب موڑنا پڑا۔ جمہوریہ چیک اور اٹلی میں بھی متعدد پروازیں سیکیورٹی خدشات کے باعث متاثر ہوئیں۔

حکام کی جانب سے اب تک سامنے آنے والی دھمکیوں کی تحقیقات جاری ہیں۔ ابتدائی کارروائیوں میں کسی مقام سے دھماکا خیز مواد برآمد نہیں ہوا، تاہم ان واقعات کے باعث فضائی سفر اور میڈیا اداروں کے معمول کے آپریشنز متاثر ہوئے ہیں۔

یورپی ممالک میں حالیہ سیکیورٹی خدشات کو ہائبرڈ خطرات کے وسیع تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔ ماضی میں بعض یورپی حکام نے ایسے واقعات میں روس کے ممکنہ کردار کا الزام عائد کیا ہے، تاہم موجودہ دھمکیوں کے ذمہ داروں اور ان کے باہمی تعلق کے بارے میں تاحال کوئی حتمی تصدیق سامنے نہیں آئی۔

دوسری جانب پاکستان میں نیشنل سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم نے بھی مالیاتی اداروں اور اہم تنصیبات کو ممکنہ سائبر حملوں کے حوالے سے خبردار کیا ہے۔ جاری کردہ ایڈوائزری میں مصنوعی ذہانت کے استعمال سے سائبر حملوں میں اضافے کے خدشات ظاہر کیے گئے ہیں۔

ایڈوائزری کے مطابق بینکوں کے ڈیجیٹل نظام، آن لائن بینکنگ، ادائیگیوں کے نیٹ ورکس اور صارفین کی ذاتی و مالیاتی معلومات کو ممکنہ خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔ متعلقہ اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے سائبر سیکیورٹی انتظامات مزید مؤثر بنائیں اور اہم ڈیٹا کے تحفظ کے لیے احتیاطی اقدامات یقینی بنائیں۔

Leave a reply