عراق کا دوٹوک مؤقف: ایران کے خلاف حملوں کے لیے اپنی سرزمین استعمال نہیں ہونے دیں گے

بغداد: عراق نے امریکا کو واضح پیغام دیا ہے کہ اس کی سرزمین ایران یا کسی دوسرے پڑوسی ملک کے خلاف فوجی کارروائیوں کے لیے استعمال نہیں کی جا سکتی۔ عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے امریکی صدر سے گفتگو میں علاقائی کشیدگی کم کرنے اور تنازعات کے حل کے لیے سفارت کاری کو ترجیح دینے پر زور دیا ہے۔
عراقی وزیراعظم کے دفتر کے مطابق گفتگو میں دونوں رہنماؤں نے خطے کی سیکیورٹی صورت حال، باہمی دلچسپی کے معاملات اور علاقائی استحکام کے لیے مشترکہ کوششوں پر تبادلہ خیال کیا۔ علی الزیدی نے مؤقف اختیار کیا کہ پڑوسی ممالک کے خلاف جارحانہ کارروائیوں میں عراقی سرزمین کا استعمال ملک کی پالیسی کے منافی ہے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ خطے میں امن کے قیام کے لیے مذاکرات اور پُرامن ذرائع اختیار کرنا ضروری ہیں۔
دوسری جانب عراقی وزارت دفاع نے ملک کے مغربی علاقوں میں سیکیورٹی مزید سخت کرنے کے لیے فوجی دستوں کی تعیناتی بڑھانے کا اعلان کیا ہے۔
وزارت دفاع کے ترجمان کے مطابق راوہ اور حطرا کے درمیان دفاعی پوزیشنیں مضبوط کی جا رہی ہیں۔ اس کارروائی کا مقصد صحرائی علاقوں میں امن و امان برقرار رکھنا، مشتبہ عسکریت پسند عناصر کی نقل و حرکت روکنا اور شہریوں و تجارتی راستوں کو محفوظ بنانا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ بہتر سیکیورٹی سے علاقے میں تجارتی سرگرمیوں، سرمایہ کاری اور زراعت کے فروغ کے امکانات بھی بڑھیں گے۔
مقامی دفاعی صنعت کی ترقی پر توجہ
عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے دفاعی صنعتوں کے کمیشن کا دورہ بھی کیا، جہاں انہیں ملک میں تیار اور جدید خطوط پر استوار کیے جانے والے فوجی سازوسامان کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔
نمائش میں مختلف اقسام کا گولہ بارود، ہلکے اور بھاری ہتھیار، ڈرون ٹیکنالوجی اور نگرانی کے جدید آلات پیش کیے گئے۔
وزیراعظم نے دفاعی پیداوار میں مقامی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے اور نجی شعبے کی شمولیت بڑھانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ عراق کو اپنی دفاعی ضروریات پوری کرنے کے لیے ملکی مہارت اور صنعتی استعداد میں اضافہ کرنا چاہیے۔
انہوں نے تحقیق، جدید ٹیکنالوجی اور پیداواری صلاحیت میں سرمایہ کاری کو قومی خودمختاری کے لیے اہم قرار دیا۔
غیر ملکی انحصار کم کرنے کا منصوبہ
عراقی حکومت دفاعی صنعتوں کے کمیشن کو مزید فعال بنانے اور اس کی تکنیکی و پیداواری صلاحیت بڑھانے کا ارادہ رکھتی ہے، تاکہ مسلح افواج اور سیکیورٹی اداروں کی ضروریات مقامی سطح پر پوری کی جا سکیں۔
عراق میں دفاعی سازوسامان کی تیاری کا شعبہ کئی دہائیوں پرانا ہے۔ 1980 کی دہائی میں ایران عراق جنگ کے دوران اس صنعت کو وسعت ملی، تاہم 1991 کی خلیجی جنگ اور بعد ازاں بین الاقوامی پابندیوں نے اس کے صنعتی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا۔
اب عراقی حکومت مقامی دفاعی پیداوار کی بحالی اور غیر ملکی سپلائرز پر انحصار کم کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔









