پاکستان اور مالدیپ کے درمیان دفاع، سائبر سیکیورٹی اور تجارت سمیت 20 شعبوں میں تعاون پر اتفاق

0
44
پاکستان اور مالدیپ کے درمیان دفاع، سائبر سیکیورٹی اور تجارت سمیت 20 شعبوں میں تعاون پر اتفاق

اسلام آباد: پاکستان اور مالدیپ نے دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے اور اقتصادی تعاون کو فروغ دینے کے لیے مختلف شعبوں میں 20 مفاہمتی یادداشتوں کا تبادلہ کیا ہے۔ دونوں ممالک نے باہمی تجارت کا حجم 20 کروڑ ڈالر تک بڑھانے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔

وزیراعظم شہباز شریف اور مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والی ملاقات اور اعلیٰ سطح کے مذاکرات میں دفاع، بحری سلامتی، سائبر سیکیورٹی، انفارمیشن ٹیکنالوجی، تعلیم، زراعت اور صحت سمیت متعدد شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔

دونوں ملکوں کے درمیان طے پانے والے تعاون میں انسدادِ منشیات، ماہی گیری، سماجی بہبود، فنی تربیت اور طبی شعبے بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ متعلقہ سرکاری اداروں، اعلیٰ تعلیمی کمیشنوں اور تعلیمی شعبے کے درمیان اشتراک بڑھانے کے لیے بھی مفاہمتی دستاویزات کا تبادلہ کیا گیا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان مالدیپ کو آئی ٹی کے شعبے میں تکنیکی معاونت فراہم کرنے کے ساتھ ڈیٹا سینٹرز کے قیام میں بھی تعاون کرے گا۔ دونوں ممالک نوجوانوں کے تبادلوں اور تعلیمی وفود کے دوروں کو فروغ دینے کے لیے بھی اقدامات کریں گے۔

مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران وزیراعظم نے سندھ طاس معاہدے سے متعلق بھارتی اقدامات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی معاہدوں کی پاسداری تمام ممالک کی ذمہ داری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پانی کو دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے اور پاکستان کے آبی حقوق کا تحفظ ضروری ہے۔

پاکستان اور مالدیپ کی قیادت نے فلسطین کے معاملے پر بھی اپنے مؤقف کا اعادہ کیا اور ایک آزاد و خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کی۔

مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو نے دورے کے دوران استقبال اور میزبانی پر پاکستانی حکومت اور عوام کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے معاہدے باہمی تعلقات کو نئی جہت دینے میں مددگار ثابت ہوں گے۔

صدر معیزو نے تعلیم، صحت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی میں پاکستان کے تعاون کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ مجوزہ بزنس فورم دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کے نئے امکانات پیدا کرے گا۔ انہوں نے موسمیاتی تبدیلی کو خطے کے لیے ایک اہم چیلنج قرار دیتے ہوئے تکنیکی اور فنی شعبوں میں مشترکہ کوششیں بڑھانے پر زور دیا۔

Leave a reply