مایوسی عنوان پرانا

مایوسی عنوان پرانا

تحریر:جسٹس ریٹائرڈ نذیر احمد غازی

ماضی میں اخبارات کی خبروں میں خیر و سلامتی کی نوید بھی پڑھی جاتی تھی اور شر و فساد کے احوال بھی ملاحظہ میں آتے تھے، لیکن ماضی قریب میں یہ توازن بگڑا ہوا نظر آتا ہے۔ اخبارات کی مبینہ خبریں اکثریہ ہوتی ہیں کہ باپ نے بیٹے کو گولی ماردی یا جائیداد کی تقسیم پر بیٹے نے باپ کو قتل کر دیا دوسری طرز کی شرر افشاں خبر یہ ہوتی ہے کہ پانچ بچوں کے باپ نے بے روز گاری سے تنگ آکر خود کشی کر لی، خیر یہ ایک نمونہ ہے تفصیلات کی انواع اقسام گو دائرہ شمار سے باہر ہیں۔
ا بھی چند دِنوں پہلے ایک خبرتھی کہ پھل فروش اور گاہک میں گشیدگی بڑھی تو دوکاندارنے گاہک کو اینٹ مار کر اس کا سر پھاڑ دیا اور وہ گاہک زخموں کی تاب نہ لاکر جاں بحق ہو گیا پس واقعہ سبب یہ تھا کہ گاہک نے تقریباً 500 روپے کے پھل خریدے اور پانچ ہزار کا نوٹ دوکاندار کو ادائیگی کیلئے دیا، دوکاندار نے جواب دیا کہ اس کے پاس 5000 کی ریز گاری نہیں ہے۔گاہک نے عذر پیش کیا کہ اس کے پاس بھی کوئی اور چھوٹا نوٹ یاکرنسی نہیں ہے۔ سوال و جواب میں دونوں جانب سے درشتی کا ماحول پیدا ہواغصے کے طوفان میں دوکاندار اندھا ہوا اور قتل جیسے گھناؤنے اوربھیانک جرم کا مرتکب ہوگیا۔
ایک خبر وحشت ناک یہ زیر نظر آئی کہ پٹرول پمپ پر ایک بے شعور من چلا سگریٹ کا شوق فرما رہا تھا،پیٹرول پمپ کے ایک غریب ملازم نے بربنائے احتیاط سگریٹ نوشی سے منع کیا تو احتیا ط جذبہ شوق میں کشمکش بڑھ گئی، نتیجے میں غریب ملازم کو خود زدو کوب اور شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔اس طرز کی خبریں اخباری اطلاعات کا تو معمول ہیں لیکن اس طرز کے واقعات کا پڑھنا غیر معمولی ہے اور نہایت وحشت ناک ہے۔
خوت اور گھبراہٹ کا جنم لینا ایک فطری ردعمل ہے لیکن اس قبیل کے حادثات اور واقعات کے پس منظر میں اخلاقی پستی کی کون سی حقیقت پوشیدہ ہے؟ یا ہماری اجتماعی ذہنی غلاظت کی وہ قوت ہے جو ہمیں غیر انسانی جرائم کے ارتکاب پر مجبور کرتی ہے،اہم سوال یہ ہے کہ ہماری زندگی میں درندگی اور بے راہ روی کے یہ اسباب محض ہمارے داخلی شرور کا نتیجہ ہیں یا ہماری معاشرت کے خارجی ماحول کے اثرات بھی ہماری بے راہ روی اور جرم پروری کو حوصلہ دیتے ہیں۔اگر ہم جرم پروری کے داخلی اور خارجی اسباب تلاش بھی کرلیں تو اس درد بے کراں کا مداوا کہاں سے میسر آئے گا؟ اصلاح کی ابتداء اوپر سے نیچے کی طرف ہو گی یا نیچے سے اوپر کی طرف سلسلہ اصلاح بڑھے گا؟
ایک سوال بہت ہی تواتر سے ہمارے اذہان میں کلبلاتاہے کہ اس خرابی بسیار کو درست کون کرے گا؟ دانشور، مصلحین، اہل قلم، ناصحین اپنی اپنی بساط کے مطابق اس سوال کا جواب دیتے ہیں اور حل بھی تجویز کرتے ہیں لیکن ذمہ داری کا تعین کرتے یا تو ہچکچاہٹ کا شکار ہوتے ہیں یا جھنجلاہٹ کی زد میں آجاتے ہیں۔ کچھ مصلحین مصلحت پسند محافظ دہن و شکم ہوتے ہیں،اس لئے وہ ایسے بگڑے ہوئے حالات میں اپنی ذات کے سدھار کا راستہ تلاش کرتے ہیں۔ ان کی کوشش یہ ہوئی ہے کہ نزلہ بر عضوضعیف ریز دن کے مصداق خرابی کے اسباب کی ذمہ داری غریب اور مفلوک الحال طبقے پر ڈال دی جائے اور ان کا فلسفہ نجات فرمان شاہانہ سے مستعار ہوتا ہے کہ اگر نان شبینہ میسر نہ ہو تو پھر خوش ذائقہ کیک کوتسلی ء شکم کا سامان بنا لیا جائے۔
کچھ معالج ِحوال ایسے ہوتے ہیں جہاں دماغ کی گرمی ان کے شعور کو اپنی لپیٹ میں لئے ہوئے ہوتی ہے۔ اس لئے وہ درست تجزیہ کرنے کی اہلیت سے محروم ہوتے ہیں۔کچھ درد مندانِ ملت کا درد زورآوروں کے درد کے ساتھ ا ٹھتا اور بیٹھتاہے۔ اس لئے وہ حالات پر نظر رکھنے کی بجائے ممدوح کے درد پر نظر رکھتے ہیں تاکہ منظور نظر رہیں۔
حالات کا جائزہ لیتے ہوئے محض تنقید کو ذریعہ اصلاح تصور کر لینا بھی غیر معقول خیال ہے اور اجتماعی کر بناک اور تشویشناک حالات میں اغماض برتنا بھی قومی خیانت ہے۔ ایک طویل عرصے سے مجبور و مفلوک اور اشرافیہ طبقات میں ایک خاموش اور سر و کشمکش جاری ہے۔ ایک جانب اختیار ہے دوسری طرف احتجاج ہے۔
اسی اختیار اور احتجاج کے سلسلے نے قومی سیاست کو نہایت درجہ متاثرکیا ہے۔ سیاسی تبدیلی کے وقت اسی اختیار اور احتجاج کو ماہرین نفسیات اپنے فن و تجربہ کی قوت بخشتے ہیں۔ یہ ماہرین نفسیات صاحبان اختیار کے مشیر ہوتے ہیں اور پسماندہ یعنی باقی ماندہ ماہر ین نفسیات احتجاجی طبقے کو سرگرم ِمطالبات رکھتے ہیں۔ صاحبان اختیار کے مشیران کامیاب رہتے ہیں۔ اختیار غالب آتا ھے اور احتجاج ہر دور میں بہر حال مغلوب رہتا ہے۔ پھر عامتہ الناس اشرافیہ کے اختیار کی نمود و افزائش سے کڑھتے ہیں وعدوں کی عدم پاسداری سے ان کا یقین مضمحل ہو جاتا ہے اور احتجاج کی ناکامی سے ان کی مایوسی کی بڑھتی ہے۔
اگر غریب خاندان کا سربراہ اپنی محبوب اولاد کو فراموش کر کے خود کشی کر رہاہے تو اس کا سبب بھی طبقاتی تقسیم میں نا انصافی ہے۔ فلاحی ریاست تو اب محض ایک عمرانی اصطلاح ہے۔ اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کے لئے روزانہ تلاش معاش کیلئے اینٹیں اٹھانے والا مزدور زمین کھودنے والا بیلچہ اٹھائے ہوئے محنت کش جب مزدور ی کے مواقع سے محروم ہوتا ہے تووہ اپنے اعتماد سے سے محروم ہوتا ہے۔ اس کی یہ محرومی اس کے لئے طلب کے دروازوں کو بند کر دیتی ہے، وہ مایوسی کے اندھیروں میں خود کو بے کس و ناتواں اور نا اہل محسوس کرتا ہے۔ وہ بچوں کو بہت ناگوار بوجھ سمجھتا ہے۔ راستے دو ہیں، ایک راستہ یہ ہے کہ وہ بچوں کے ناگوار بوجھ کو اتارے یا اپنے آپ کو قبر میں اتار کر اپنی ذمہ داری سے سبکدوش ہو جائے۔ تین صورتیں ہیں ایک یہ کہ وہ خود کشی کرے، دوسری صورت یہ ہے کہ وہ بچوں کو قتل کرے اور تیسری صورت میں وہ بچوں کو قتل کرکے خود کشی کر لے۔ اکثر خبروں میں یہ تیسری صورت زیادہ نظر آتی ہے۔ ایک بہترمعاشرے کے ذمہ داران اس صورتحال پر غور نہیں کرتے کیونکہ وہ محض اپنی ذات پر اور اپنے مفادات پر بھی غور و فکر کرتے ہیں۔ ان کے ہاں اصلاح کا کام فریادہ دیر پا نہیں ہوتا ہے۔
احتجاج بلند کرتنابھی نا قابل معافی جرم ہے۔ نادار اپنی ہی ذات کو قابل ملامت گردانے اور زندہ رہے، ورنہ ابدی نیند کا راستہ تو کھلاہے ؎
مایوسی اک درد پرانا
دل کا ہے یہ روگ پرانا

Leave a reply